انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 574

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۴ احمدیت کا پیغام کے لئے آگے بھجوایا جن کے دل نہیں ڈرتے تھے ، کیونکہ ہم ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے سے بھی انگریز ہم کو پکڑ لیں گے۔میں یہ فیصلہ منصف مزاج لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں جوابوں میں سے کونسا جواب خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہے؟ اب تک تو جو کچھ میں نے کہا وہ ان لوگوں کے وساوس کو دور کرنے کے لئے کہا ہے جواحمدیت کا سرسری مطالعہ بھی نہیں رکھتے اور جو احمدیت کے پیغام کے اس کے دشمنوں سے سنتے یا بغیر احمدیت کا مطالعہ کرنے کے اپنے دلوں سے احمدیت کے عقائد اور احمدیت کی تعلیم بنانا چاہتے ہیں۔اب میں ان لوگوں کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے احمدیت کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہے اور جو جانتے ہیں کہ احمدی خدا تعالیٰ کی توحید پر یقین رکھتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں۔حدیث کو بھی مانتے ہیں۔نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔حج بھی کرتے ہیں۔زکوۃ بھی دیتے ہیں۔حشر و نشر اور جزاء وسزا پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔لیکن وہ حیران ہیں کہ جب احمدی دوسرے مسلمانوں کی طرح ہیں تو پھر اس نئے فرقہ کو قائم کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ان کے نزدیک احمدیوں کا عقیدہ اور احمدیوں کا عمل قابل اعتراض نہیں لیکن ان کے نزدیک ایک نئی کی جماعت بنانا قابل اعتراض امر ہے۔کیونکہ جب فرق کوئی نہیں تو افتراق کرنے کی وجہ کیا ہوئی اور جب اختلاف نہیں تو دوسری مسجد بنانے کا مقصد کیا ہوا ؟ نئی جماعت بنانے کی وجہ اس سوال کا جواب دو طرح دیا جا سکتا ہے۔عقلی طور پر اور روحانی طور پر۔عقلی طور پر اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جماعت صرف تعداد کا نام نہیں۔ہزار ، لاکھ یا کروڑ افراد کو جماعت نہیں کہتے بلکہ جماعت ان افراد کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں اور ایک متحدہ پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہوں۔ایسے افراد اگر پانچ سات بھی ہوں تو جماعت ہے اور جن میں یہ بات نہ ہو وہ کروڑوں بھی جماعت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعوی کیا تو پہلے دن آپ پر صرف چار آدمی ایمان لائے تھے آپ پانچویں تھے۔باوجود پانچ ونے کے آپ ایک جماعت تھے مگر مکہ کی آٹھ دس ہزار کی آبادی جماعت نہیں تھی نہ عرب کی ہو