انوارالعلوم (جلد 20) — Page 566
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۶ احمدیت کا پیغام ہے کہ وہ ختم نبوت کے منکر ہوں اور رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین نہ مانیں۔قرآن کریم میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدُ أبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ ولكِن رَّسُول الله و خاتم النبين المحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی جوان مرد کے باپ نہ ہیں نہ آئندہ ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔قرآن کریم کی پر ایمان رکھنے والا آدمی اس آیت کا انکار کس طرح کر سکتا ہے۔پس احمدیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ بِالله خاتم النبین نہیں تھے۔جو کچھ احمدی کہتے ہیں وہ ج صرف یہ ہے کہ خاتم النبین کے وہ معنی جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہیں نہ تو قرآن کریم کی تی مذکورہ بالا آیت پر چسپاں ہوتے ہیں اور نہ ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور کی شان اس طرح ظاہر ہوتی ہے جس عزت اور شان کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور احمدی جماعت خاتم النبین کے وہ معنی کرتی ہے جو عربی لغت میں عام طور پر متداول گے ہیں اور جن معنوں کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ تائید کرتے ہیں اور جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کی منزلت بہت بڑھ جاتی ہے اور تمام بنی نوع انسان پر آپ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے پس احمدی ختم نبوت کے منکر نہیں بلکہ ختم نبوت کے ان معنوں کے منکر ہیں جو عام مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں غلطی سے رائج کی ہو گئے ہیں اور نہ ختم نبوت کا انکار تو کفر ہے اور احمدی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں اور اسلام پر چلنا ہی نجات کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ان ہی ناواقف لوگوں میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی قرآن شریف پر پورا ایمان نہیں رکھتے بلکہ صرف چند سیپاروں کو مانتے ہیں۔چنانچہ مجھے حال ہی میں کوئٹہ میں درجنوں آدمیوں نے مل کر بتایا کہ ہمیں علماء نے بتایا ہے کہ احمدی سارے قرآن کو نہیں مانتے یہ بھی ایک اتہام ہے جو احمدیت کے دشمنوں نے احمدیت پر لگایا ہے۔احمدیت قرآن کریم کو ایک نہ تبدیل ہونے والی اور نہ منسوخ ہونے والی کتاب قرار دیتی ہے۔احمدیت بسم اللہ کی ب سے لے کر وَالنَّاسِ کی س تک ہر ایک حرف اور ہر ایک لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتی اور قابل عمل تسلیم کرتی ہے۔