انوارالعلوم (جلد 20) — Page 565
انوار العلوم جلد ۲۰ احمدیت کا پیغام ابراہیمیوں کا یہ کلمہ تھا اور عیسائیوں کا یہ کلمہ تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ ہر مذہب کے لئے کلمہ کا ہونا ضروری نہیں۔اگر ضروری ہوتا تب بھی احمدیت کا کوئی نیا کلمہ نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں۔احمدیت صرف اسلام کا نام ہے۔احمدیت اُسی کلمہ پر ایمان رکھتی ہے جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ - احمدیوں کے نز دیک اس مادی جہان کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جو وحدہ لاشریک ہے جس کی قوتوں اور طاقتوں کی کوئی انتہاء کی نہیں۔جو رب ہے ، رحمن ہے ، رحیم ہے، ملک یومِ الدِّينِ " ہے۔اس کے اندر وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور وہ ان تمام باتوں سے منزہ ہے جن باتوں سے قرآن کریم نے اسے منزہ قرار دیا ہے اور احمدیوں کے نزدیک محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب قرشی کی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور سب سے آخری شریعت آپ پر نازل ہوئی۔آپ عجمی اور عربی گورے اور کالے، تمام اقوام اور تمام نسلوں کی طرف مبعوث کی ہوئے۔آپ کا زمانہ نبوت ادعائے نبوت سے لے کر اُس وقت تک ممتد ہے جب تک کہ دنیا کی کے پردہ پر کوئی متنفس زندہ ہے۔آپ کی تعلیم ہر انسان کے لئے واجب العمل ہے اور کوئی تی انسان ایسا نہیں جس پر حجت تمام ہوگئی ہو اور وہ آپ پر ایمان نہ لایا ہو اور وہ خدائی عذاب کا مستحق نہ ہو۔ہر ایک شخص جس تک آپ کا نام پہنچا اور جس کے سامنے آپ کی صداقت کے دلائل بیان کئے گئے وہ مکلف ہے آپ پر ایمان لانے کے لئے اور بغیر آپ پر ایمان لائے وہ نجات کا حق دار نہیں اور کچی پاکیزگی محض آپ ہی کے نقش قدم پر چل کی حاصل ہوسکتی ہے۔احمدیوں کے متعلق بعض شکوک کا ازالہ مذکورہ بالا ناواقف گروہ میں سے بعض لوگ یہ ختم نبوت کے متعلق احمد یوں کا عقیدہ خیال بھی کرتے ہیں کہ احمدی ختم نبوت کے قائل نہیں اور رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین نہیں مانتے یہ محض دھو کے اور ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔جب احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ شہادت پر یقین رکھتے ہیں تو یہ کیونکر ہوسکتا