انوارالعلوم (جلد 20) — Page 551
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۵۱ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب گیارہ اور بارہ ستمبر کی درمیانی رات میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں جو نہ قادیان معلوم ہوتی ہے اور نہ لاہور کا موجودہ مکان بلکہ کوئی نئی جگہ معلوم ہوتی ہے۔ایک کھلا مکان ہے جس کے آگے وسیع صحن معلوم ہوتا ہے۔میں اُس کے صحن میں کھڑا کچھ لوگوں سے باتیں کر رہا ہوں۔باتوں کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہے کہ قریب زمانہ میں مسلمانوں پر ایک بڑی آفت آنی ہے اور عنقریب کچھ اور حوادث ظاہر ہونے والے ہیں جو پہلی مصیبت سے بھی زیادہ سخت ہوں گے اور مسلمانوں کی آنکھوں کے آگے قیامت کا نظارہ آجائے گا۔یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دُور اُفق میں مجھے ایک چیز اُڑتی ہوئی نظر آئی۔یہ چیز ابوالہول کی شکل کی تھی اور اسی کی طرح عظیم الجثہ معلوم ہوتی تھی۔ابوالہول کی طرح اس کی بنیاد بہت چوڑی تھی اور اوپر آکے اس کا جسم نسبتاً چھوٹا ہو جاتا تھا۔میں نے دیکھا کہ اوپر کے حصہ میں بجائے ایک سر کے اُس کے دو سر لگے ہوئے ہیں۔ایک سر ایک کو نہ پر ہے اور دوسرا سر دوسرے کو نہ پر اور درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی۔اس کی جسامت اور ہیبت کو دیکھ کر میں نے قیاس کیا کہ یہی وہ بلا ہے جس کے متعلق خبر پائی جاتی ہے اور میں نے ان لوگوں سے جن سے میں باتیں کر رہا تھا کہا وہ دیکھو وہ چیز آگئی ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے وہ بلائے عظیم اُڑتی ہوئی ہمارے پاس سے آگے کی طرف گزر گئی کی اور تمام علاقہ کے لوگوں میں شور پڑ گیا کہ اب کیا ہوگا ؟ وہ قیامت خیز تو آگئی۔اُس وقت میں کی نے دیکھا کہ مستورات جلدی جلدی کمروں کے اندر گھس گئیں لیکن میں صحن میں ٹہلتا رہا۔میں ٹہل ہی رہا تھا کہ کسی نے باہر سے آواز دی۔میں دروازہ پر گیا تو میں نے دیکھا کہ دو کشتیاں دروازہ