انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 543

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۴۳ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں۔۔۔قائم ہوگی آ کر کہا کہ میجر محمود احمد کے قتل کا جو واقعہ ہوا ہے اس میں صرف پنجابیوں کا قصور ہے ہمارا کوئی قصور نہیں آپ ہم پر گلہ نہ کریں۔پنجابی مولویوں نے یہاں آکر مخالفانہ تقریریں کیں جس سے می لوگ مشتعل ہو گئے۔پھر اُس سردار نے جو اپنی قوم کے رئیس اور میونسپل کمیٹی کے ممبر بھی تھے کہا کہ میں نے پنجابیوں کو بلوایا اور اُن سے کہا کہ تم جو احمدیت کے خلاف شورش کر رہے ہو تم یہ بتاؤ کہ قادیان پنجاب میں ہے یا بلوچستان میں؟ انہوں نے کہا پنجاب میں۔میں نے کہا جب قادیان پنجاب میں تھا اور تم کو ایک لمبا عرصہ احمدیوں کی مخالفت کے لئے مل چکا ہے تو جب تم وہاں ان لوگوں کو تباہ نہیں کر سکے تو یہاں کیا مقابلہ کرو گے۔اگر تم میں ہمت اور طاقت تھی تو تم نے ان لوگوں کو یہاں آنے ہی کیوں دیا وہیں کیوں نہ مار ڈالا۔پھر میں نے پوچھا کہ پنجاب کی آبادی کتنی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اب ۲ کروڑ ہے پہلے ۳ کروڑ ہوا کرتی تھی۔میں نے کہا بلوچستان کی آبادی کتنی ہے انہوں نے کہا ۱۲ لاکھ۔میں نے کہا تم دوتین کروڑ ہو کر ان لوگوں کو مار نہیں سکتے تو ہم بارہ لاکھ کو کیوں ذلیل کرتے ہو اور کیوں ہمیں ان کی مخالفت کے لئے اُکساتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے اپنا سارا زور ہماری مخالفت میں لگالیا اور ابھی اور لگائے گی لیکن یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ احمدیت دنیا میں غالب آکر رہے گی کیونکہ احمدیت کے بغیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالب نہیں آسکتے۔اس کے ساتھ ہی میں اپنی ذات کے متعلق بھی کی یہ بات جانتا ہوں کہ میری زندگی کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی زندگی وابستہ ہے اس لئے خدا مجھے بھی دشمن کے ہاتھوں سے نہیں مرنے دے گا اور وہ میرے بچاؤ کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے ساتھ اسلام کی ترقی کو وابستہ کر دیا ہے جو شخص احمدیت پر ہاتھ اُٹھاتا ہے وہ اسلام پر ہاتھ اُٹھاتا ہے۔جو شخص احمدیت کو برباد کرنا چاہتا ہے وہ اسلام کو برباد کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ جب خدا نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور ہم کمزوروں اور ناتوانوں کے ساتھ اسلام کی آئندہ ترقی کو وابستہ کر دیا ہے تو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں۔اسی لئے باوجود اس کے کہ شہروں میں ہمیں مکان مل سکتے تھے مگر ہم نے نہیں لئے کیونکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں بیداری