انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 538

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۳۸ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی نازل کرے اور ہمیں بھی ان نعمتوں سے حصہ دے جو اس نے پہلوں کو دیں۔آخر نیت تو ہماری بھی وہی ہے جو ان کی تھی۔ہمارے ہاتھ میں وہ طاقت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور ہمارے دل میں وہ قوت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ہے تھی۔اگر ہم باوجود اس کمزوری کے وہی ارادہ کر لیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہوگا۔وہ یہ نہیں کہے گا کہ کون ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ کہے گا دیکھو! میرے یہ کمزور بندے اس بوجھ کو اُٹھانے کے لئے آگے آگئے ہیں جس بوجھ کے اُٹھانے کی ان میں طاقت نہیں۔دنیا اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھول گئی ہے بلکہ اور لوگوں کا تو کیا ذکر ہے خود مسلمان آپ کی تعلیم کو بھول چکے ہیں۔آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔جو بھی اُٹھتا ہے مصنف کیا اور فلسفی کیا اور مؤرخ کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔دنیا کا سب سے بڑا حسن انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ معزز انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھا جاتا ہے۔اگر ہمارے دلوں میں اسلام کی کوئی بھی غیرت باقی ہے، اگر ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی محبت باقی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے آقا کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر دوبارہ قائم کریں۔اس میں ہماری جانیں ، ہماری بیویوں کی جانیں ، ہمارے بچوں کی جانیں بلکہ ہماری ہزار ہا پشتیں بھی اگر قربان ہو جائیں تو یہ ہمارے لئے عزت کا موجب ہوگا۔ہم نے یہ کام قادیان میں شروع کیا تھا مگر خدا ئی خبروں اور اس کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کی کے مطابق ہمیں قادیان کو چھوڑنا پڑا۔اب انہی خبروں اور پیشگوئیوں کے ماتحت ہم ایک نئی بستی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اس وادی غیر ذی زرع میں بسا رہے ہیں۔ہم چیونٹی کی طرح کمزور اور نا طاقت ہی سہی مگر چیونٹی بھی جب دانہ اٹھا کر دیوار پر چڑھتے ہوئے گرتی ہے تو وہ اس دانے کو چھوڑتی نہیں بلکہ دوبارہ اسے اُٹھا کر منزل مقصود پر لے جاتی ہے اسی طرح گو ہمارا وہ مرکز جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے دشمن نے ہم سے چھینا ہوا ہے لیکن ہمارے ارادہ اور عزم میں کوئی تزلزل واقعہ نہیں ہوا۔دنیا ہم کو ہزاروں جگہ پھینکتی چلی جائے وہ فٹ بال