انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 490

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۰ دیباچہ تفسیر القرآن اللہ تعالیٰ کے لشکروں سے خدا ہی واقف ہے دوسرا کوئی واقف نہیں لیکن انسان کو ایک عزت اور رتبہ کا مقام حاصل ہے اس لئے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے بمنزلہ آئینہ ہے اسی لئے مسلمان صوفیاء اس کو عالم صغیر کہتے ہیں یعنی تمام مخلوقات کی صفات انسان کے اندر جمع ہوگئی ہیں اور انسان کو ہم ساری دنیا کا قائمقام کہہ سکتے ہیں۔جس طرح ایک نقشہ چھوٹے سے کاغذ پر ہوتا ہے کی لیکن وہ ملک کی تمام کیفیات کو ظاہر کر دیتا ہے اسی طرح انسان کو ایک چھوٹا سا جسم رکھتا ہے مگر وہ چی تمام عالم کی مختلف حقیقتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ دنیا کا محور اور مرکز انسان ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دنیا کی ہر مخلوق پر حکومت کر رہا ہے اور کوئی مخلوق اس پر حکومت نہیں کر رہی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلیاں، ستاروں کی روشنیاں، بجلیاں اور بیماریاں اسی طرح طوفان اور بارشیں انسان پر ضرور اثر کرتی ہیں مگر اثر اور حکومت میں فرق ہوتا ہے۔حاکم بھی اپنے محکوم سے متاثر ہوتے ہیں۔دنیا میں کوئی ایسا حاکم ہمیں نظر نہیں آتا جو اپنے محکوم سے متاثر نہ ہو، مگر باوجود اس کے حاکم اور محکوم کے پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔اسی طرح گوانسان دوسری چیزوں سے متاثر ہوتا ہے، لیکن ان چیزوں پر حکومت اور قبضہ انسان ہی کا ہوتا ہے۔دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں، ہواؤں، دواؤں ، بارشوں اور بجلیوں وغیرہ پر حاکمانہ اقتدار انسان کا ہی ہے اور اس طرح وہ تمام مخلوق کا نقطہ مرکزی ہے، یا یوں کہہ لو کہ اس تمام مخلوق کا جو ہماری دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کیونکہ عالم کی وسعت اتنی بڑی ہے کہ ہم اس کے متعلق کوئی عام فتوی لگانے کا حق نہیں رکھتے۔۔انسان کی پیدائش اور اس کی انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات و انجیل کے دعوؤں کے دماغی ترقی تدریجی طور پر ہوئی بر خلاف انسان کی پیدائش تدریجی طور پر ہوئی ہے۔ایک آیت تو میں پہلے ” قرآنی تعلیم کے اصول کے زیر عنوان لکھ چکا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسان کی پیدائش کو تدریجی قرار دیتا ہے۔اس جگہ ایک اور آیت بیان کرتا ہوں جس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان کی پیدائش اس طرح نہیں ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے مٹی سے ایک