انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 37

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۷ دیباچہ تفسیر القرآن نے ریگستان عرب کی بستی مکہ میں اپنا وہ آخری پیغام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا می جس کی پہلی آیت یہ ہے الْحَمدُ یو ر این ۳۴ یعنی وہ خدا تعالیٰ تمام تعریفوں لِلهِ رَبِّ کا مستحق ہے جو ہر قوم اور ہر ملک کی یکساں ربوبیت کرنے والا ہے اور اس کی ربوبیت کا پہلو کسی ایک قوم یا ایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور جس پیغام کا خاتمہ ان آیات پر ہوتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إله الناس ۳۵ یعنی تو کہہ میں اُس کی خدا کی پناہ طلب کرتا ہوں جو تمام بنی نوع انسان کا رب ہے، جو تمام بنی نوع انسان کا بادشاہ ہے، جو تمام بنی نوع انسان کا معبود ہے، وہ شخص جس پر یہ کلام نازل ہوا وہ شخص یقینا آدم ثانی تھا جس طرح آدم اول کے زمانہ میں ایک ہی کلام اور ایک ہی اُمت تھی اسی طرح اس کے زمانہ میں بھی ایک ہی کلام اور ایک ہی اُمت ہوگئی۔پس اگر اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہی ہے اور اگر وہ تمام اقوام اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں تعلق رکھتا ہے تو ضروری تھا کہ کسی وقت تمام قومیں اور تمام افراد ایک نقطۂ مرکزی کی طرف جھکتے یا ایک نقطہ پر جمع ہونے کا سامان ان کے لئے پیدا کیا جاتا اور اس ضرورت کو صرف قرآن کریم پورا کرتا ہے۔قرآن کریم کے بغیر دنیا کی روحانی پیدائش بالکل بیکار ہو جاتی ہے کیونکہ دنیا اگر روحانی طور پر ایک نقطہ پر جمع نہیں ہوتی تو خدائے واحد کی واحدانیت کس طرح ثابت ہو سکتی ہے۔شروع شروع میں دریاؤں کے کئی نالے ہوتے ہیں مگر دریا آخر ایک بڑے وسیع رستہ میں اکٹھا ہو کر بہ چلتا ہے تب اس کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے۔موسی عیسی ، زرتشت ، کرشن اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات پہاڑی نالے تھے۔اپنی اپنی جگہ وہ بھی مفید کام کرتے رہے تھے مگر ان نالوں کا ایک دریا میں مل جانا خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور بنی نوع انسان کی انتہائی ترقی پر پہنچنے کے لئے نہایت ضروری تھا۔1 قرآن مجید کے سوا کسی نبی کی اگر قرآن اس غرض کو پورا نہیں کرتا تو کس نبی کی کتاب اس غرض کو پورا کرتی ہے؟ کیا بائبل اس تعلیم سب قوموں کیلئے نہ تھی غرض کو پورا کرتی ہے جو خدا کو بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص کر دیتی ہے؟ کیا زرتشت کی کتاب اس ضرورت کو پورا کرتی ہے جو خدا کے نور کو ایرانیوں کے ساتھ وابستہ کر دیتی ہے؟ کیا وید اُس ضرورت کو پورا کرتے ہیں جو ویدوں کے۔