انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 477

انوار العلوم جلد ۲۰ CL2 دیباچہ تفسیر القرآن جدا ہے اس لئے مادی ذرائع سے اُسے دیکھنے کی کوشش کرنا بالکل عبث ہے۔پھر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہستی اپنے تمام ارادوں کے پورا کرنے پر قادر ہے فرماتا ہے اِنَّ الله على كل شيء قدیر ۵۷۳ اللہ تعالیٰ ہر ایک چاہی ہوئی بات پر قادر ہے یہاں شَيْءٍ یہ نہیں فرمایا کہ ہر چیز پر قادر ہے کیونکہ ایسے الفاظ کے استعمال سے بہت سے لوگ نادانی سے غلط اعتراض شروع کر دیتے ہیں مثلاً یہ کہ کیا خدا مرنے پر قادر ہے؟ یا کیا اپنی مانند ایک اور خدا بنانے پر قادر ہے؟ حالانکہ یہ چیزیں تو گھناؤنی اور ناپسندیدہ ہیں۔اعلیٰ اور کامل کی ہستی گھناؤنے اور نا پسندیدہ کام نہیں کیا کرتی۔بہر حال ایسے لوگوں کے اعتراضوں کوحل کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر فعل پر قادر ہے بلکہ فرماتا ہے إن الله على كل شيء قدير ہر اس بات پر خدا تعالیٰ قادر ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے کیونکہ خدا بوجہ کامل ہونے کے کامل باتوں ہی کا ارادہ کرتا ہے اس قسم کا بیوقوفانہ ارادہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے آپ کو فنا کر دے یا اپنے جیسا کوئی خدا بنالے۔قرآن کریم کی پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔اس میں اس خدا تعالی کی چار صفات کے پر روشنی ڈلی کی ہے کہ خدا تعالی کی صفات کس طرح عمل بات گئی کرتی ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں چار صفات کے ارد گرد گھومتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں۔(1) وه ر TAKWANALTURAL E ہے یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کر کے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اُ سے اعلیٰ حالت تک پہنچا تا ہے۔(۲) وہ رحمن ہے یعنی تمام ایسے ذرائع بغیر مخلوق کی کسی کوشش اور بغیر اُس کے استحقاق کے مہیا فرما تا ہے جن کے بغیر مخلوق کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔(۳) و رحیم ہے یعنی وہ تمام مخلوق جو عقل اور ارادہ رکھتی ہے جب اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے ایک نیک رستہ کو پسند کر لیتی ہے اور بُرائی کا مقابلہ کرتی ہے تو اللہ تعالی اس کے فعل کا نہایت اعلیٰ بدلہ دیتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ متواتر دیتا چلا جاتا ہے۔(۴) وہ ملِكِ يَوْمِ الدِین ہے یعنی ہر چیز کا آخری فیصلہ اُس نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے