انوارالعلوم (جلد 20) — Page 473
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۷۳ دیباچہ تفسیر القرآن کے سوا خدا نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ایک جوڑے کی محتاج ہے اور اس کا قیام اور اس کی زندگی دوسری چیزوں کے ساتھ وابستہ ہے۔غرض قرآن کریم ایک ایسی ہستی کو تمام موجودات کا مرکز قرار دیتا ہے جو اپنی ذات میں منفرد ہے اور جس کے ساتھ کسی اور چیز کو مشابہت نہیں دی جاسکتی۔اس چھ کے سوا جتنی موجودات ہیں وہ سب اپنی ذات کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج ہیں مگر وہ ہستی جو تمام کائنات کا نقطہ مرکزی ہے وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کی محتاج نہیں۔پھر فرماتا ہے نہ اُس ہستی سے آگے کوئی اولاد پیدا ہوتی ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد میں سے ہے۔اس آیت کے ذریعہ سے قرآن کریم نے اپنے عقیدہ کو عیسائیت سے بالکل مختلف ثابت کیا ہے عیسائیت اور بھی بہت سے دیگر آرین مذاہب بھی خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی شکل میں اولا د تسلیم کرتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اولاد کی ضرورت ایسی ہستیوں کو ہوتی ہے جو محتاج ہوتی ہے ہیں یا جن پر فنا آنے والی ہوتی ہے مگر خدا میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔پس اُس کو کسی اولاد کی کی ضرروت نہیں اور جس طرح اُسے اولاد کی ضرورت نہیں اسی طرح وہ اس بات کا بھی محتاج نہیں کہ اس کا کوئی اور سبب اور پیدا کرنے والا ہو۔اور جس طرح وہ باپ اور بیٹے سے آزاد ہے اسی طرح وہ اس بات میں بھی منفرد ہے کہ کوئی اور ہستی اس جیسی طاقتوں والی موجود نہیں۔یعنی نہ تو خدا تعالیٰ کے پیدا کرنے کا کوئی سبب ہے نہ خدا تعالیٰ اولاد کا محتاج ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی قسم کا کوئی اور وجود موجود ہے۔اس آخری اعلان کے ساتھ قرآن کریم نے اُن مذاہب کا رڈ کیا ہے جو تعد دالوہیت کے قائل ہیں جیسے زرتشتی مذہب ہے غرض ان مختصر الفاظ میں یہ عقیدہ پیش کیا گیا ہے کہ تمام عالم کا مرکز ایک خدا ہے جو منفرد حیثیت رکھتا ہے تمام دیگر ہستیوں سے۔اور وہ واحد منبع ہے تمام موجودات کا۔اور وہ اپنے کاموں کے کرنے میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں نہ اس کی کا کوئی بیٹا ہے نہ اس کا کوئی باپ تھا اور نہ کوئی متوازی طاقت اُس کے ساتھ موجود ہے اور نہ اس کے بالمقابل کوئی اور طاقت موجود ہے۔دیکھو! ان چند الفاظ میں سارے کے سارے مذاہب کو ر ڈ کر کے ایک خالص تو حید کو قائم کر دیا گیا ہے۔دنیا کے جتنے مذاہب ہیں وہ سارے کے سارے مندرجہ ذیل غلطیوں میں مبتلا ہیں۔بعض لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی خاص قوم کا خدا ہے یعنی خواہ اس نے پیدا تو ساری دنیا کو