انوارالعلوم (جلد 20) — Page 472
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۷۲ دیباچہ تفسیر القرآن۔ہو جانے کا۔اُن ذرات کو جب الگ کر دیا جائے تو انسانی جسم باقی نہیں رہتا۔جب انسان مرجاتا ہے اور اس کو مٹی میں دفن کرتے ہیں تو مٹی کی رطوبت اور دوسرے کیمیاوی اثرات اُس کے جسم کو خاک بنا کر رکھ دیتے ہیں وہ ذرے جن سے انسانی جسم بنا تھا وہ تو اب بھی موجود ہوتے ہیں مگر علت کے بدل جانے کی وجہ سے انسانی جسم موجود نہیں رہتا۔جب اسی انسانی جسم کو آگ میں جلا دیا جاتا ہے یا پانی میں گلا دیا جاتا ہے یا بجلی سے راکھ کر دیا جاتا ہے تو جن چیزوں سے انسان بنا تھا وہ تو پھر بھی موجود رہتی ہیں مگر آگ یا بجلی یا پانی کے اثرات سے اُن کی شکل بدل جاتی ہے اور انسانی جسم کو اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھنے کی جو علت تھی اُس کے مٹتے ہی انسانی جسم بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کیلئے یہ بات نہیں ، اُسے کوئی خارجی سبب وجو د نہیں دے رہا ہے۔یا اُس کے وجود کو قائم نہیں رکھ رہا بلکہ وہ خود کامل ہستی ہونے کی وجہ سے موجود ہے اور وقت کی قید سے آزاد ہے گو انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیونکر وقت کی قید سے آزاد ہے جب کہ سب مادہ وقت کی قید میں مبتلا ہے۔اس کا جواب در حقیقت یہی ہے کہ خدا کا وجود اور طرح کا ہے اور انسان کا وجود اور طرح کا ہے انسان کے وجود یا مادی وجود پر خدا تعالیٰ کا قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ھو آحد وہ ہر چیز میں منفرد ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ فاطر السموتِ وَالْأَرْضِ ، جَعَلَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الأَنْعَامِ اَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ : وَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۵۶۵، وه آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اس نے ہر چیز کی جنس میں سے اُس کا جوڑا بنایا ہے۔چارپایوں کی جنس میں سے بھی اُن کا جوڑا بنایا ہے اور وہ ان جوڑوں کے ذریعہ سے مادی دنیا کو ترقی دیتا ہے چلا جاتا ہے یعنی تمام دنیا میں خواہ وہ حیوان ہوں یا نباتات یا جمادات جوڑوں کا سلسلہ چل رہا ت ہے خواہ اس کونر و مادہ کہہ لو خواہ اسے مثبت و منفی کہہ لو۔خواہ اس کا کوئی اور نام رکھ لو۔بہر حال یہ ساری دنیا جوڑوں کے اصول پر چل رہی ہے۔ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و من كُلّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۵۶۶ اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔یعنی تا یہ تم سمجھ سکو کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ