انوارالعلوم (جلد 20) — Page 465
انوار العلوم جلد ۲۰ تفسیر القرآن مقرر کرنے میں ضرور اس کا ہاتھ بھی تھا۔پس یہ بھی اس کے ظلم میں شریک ہے۔قرآن ہر حال میں اخلاق فاضلہ قرآن سیاست میں اخلاق فاضلہ پر زور دیتا ہے وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ کے اظہار پر زور دیتا ہے اخلاق فاضلہ افراد کیلئے ہوتے ہیں حکومتوں کی کیلئے نہیں ہوتے بلکہ وہ اس بات پر زور دیتا کہ جس طرح افراد پر اخلاق فاضلہ کی ذمہ داریاں ہیں اسی طرح حکومتوں پر بھی اخلاق فاضلہ کی ذمہ داریاں ہیں۔سچ صرف ایک عام شہری ہی کے لئے قیمتی چیز نہیں بلکہ ایک سیاست دان کے لئے بھی ضروری ہے۔ظلم صرف ایک عام آدمی کے لئے ہی بُرا نہیں بلکہ ایک حکومت کے لئے بھی بُرا ہے۔حکومت کا یہی فرض نہیں کہ وہ اپنے افراد کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے بلکہ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ جس طرح ہمسایہ ہمسائے سے عمدہ سلوک کرتا ہے وہ بھی اپنی ہمسایہ حکومتوں سے عمدہ سلوک کرے۔اسلام مؤمن کو ہوشیار اور چوکس رہنے کا حکم دیتا ہے وہ جفاکشی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ بزدلی سے منع کرتا ہے مگر تہور اور جاہلانہ جوش سے روکتا ہے۔وہ عقل اور تدبیر سے کام لینے کا حکم دیتا ہے وہ خود کشی کو نا جائز قرار دیتا ہے اور ایسے تمام افعال جو خود کشی کے مترادف ہوں اُن سے منع کرتا ہے۔وہ مسلمان حکومتوں کو سرحدوں کی حفاظت ملحوظ رکھنے کا خاص طور پر حکم دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ جنگ میں کبھی ابتداء نہ کی جائے لیکن اگر دشمن جنگ شروع کر دے تو پھر پیچھے کبھی نہ ہٹا جائے۔وہ شب خون مارنے سے منع کرتا ہے۔وہ معاہدے کی پابندی کا سختی سے حکم دیتا ہے اور صلح کے تمام مواقع کو ہاتھ سے نہ انے دینے کی تاکید کرتا ہے۔قرآن کریم اپنے ملک کے یا غیر ملک کے افراد کو آزادی سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، وہ صرف جنگی قیدیوں کے پکڑنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس کی کے لئے بھی وہ یہ شرط مقرر کرتا ہے کہ ہر قیدی اپنے حصے کا حرجانہ ادا کر کے آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ با وجود اس کے کہ کوئی قیدی اپنے حرجانہ کی رقم ادا کر دے اُس کو قید رکھ سکے ، لیکن اگر کوئی شخص جو ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہو جائے ، اپنے حصہ کا حرجانہ ادا کرنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو پھر قرآن کریم اُس کے لئے یہ حکم دیتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اُس کو اجازت دی جائے کہ وہ کمائی کر کے اپنا حرجانہ ادا کر دے۔اور جو ایسا کرنے کی