انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 462

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۶۲ دیباچهتفسیر القرآن مسلمان ایک خاص وقت میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اس طرح ہر سال عالم اسلام کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غور کرنے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر حج کے علاوہ ایک عمرہ کی عبادت بھی ہے جس میں کسی وقت کی شرطی نہیں وہ انفرادی عبادت ہے۔مختلف وقتوں میں جب بھی کسی کو تو فیق حاصل ہوتی ہے وہ مکہ میں جاتا اور اس فریضہ کو ادا کرتا ہے۔اس حکم سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مرکز کے قیام کے لئے مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی دونوں قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں۔زکوۃ وصدقہ خیرات چوتھی قسم کی عبادت کی مثال صدقہ و خیرات ہے۔اس عبادت کی بھی اسلام نے انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتیں مقرر کی ہیں اور فرضی اور نفلی مقرر کی ہیں۔ہر عید کے موقع پر رمضان کے بعد عید کی نماز سے پہلے ہر مؤمن کے لئے فرض ہے کہ وہ کم سے کم ڈیڑھ سیر گندم یا اور مناسب غلہ خدا کے لئے غرباء کی امداد کی خاطر دے خواہ غریب ہو یا امیر۔غریب اس میں سے دے جو اُس کو اُس دن ملا ہوا اور امیراس میں سے دے جو اس نے پہلے سے کما چھوڑا ہو۔اس حکم کے سلسلہ میں ایک زکوۃ کا بھی حکم ہے جو ہرا میر پر واجب ہے۔ہر شخص جو کوئی رو پیدا اپنے پاس جمع کرتا ہے یا جانور تجارت کے لئے پالتا ہے اُس پر ایک رقم مقرر ہے۔اسی طرح ہر کھیتی کی پیداوار پر ایک رقم مقرر ہے کھیتی کی پیداوار پر دسواں حصہ اور تجارتی اموال پر اندازاً اڑھائی فیصدی۔( اس کے احکام تفصیلی مقرر ہیں مگر اس مضمون میں تفصیلات کی گنجائس نہیں ) یہ اڑھائی فیصدی صرف نفع پر نہیں دیا جاتا بلکه رأس المال اور نفع سب پر دیا جاتا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ اسلام اس ذریعہ سے روپیہ جمع کرنے کو روکنا چاہتا ہے۔زمین کے لئے دسواں حصہ اور تجارتی مال کے اوپر اڑھائی کے فیصدی میں جو فرق ہے یہ بظاہر غیر معقول نظر آتا ہے مگر درحقیقت اس میں بڑی بھاری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمین کی پیداوار پر ٹیکس دیا جاتا ہے اور تجارتی مال میں راس المال پر بھی ٹیکس ہوتا ہے چونکہ زمین کے راس المال پر ٹیکس نہیں لگا اس لئے پیداوار پر دسواں حصہ لیا گیا اور تجارتی مال میں چونکہ راس المال پر بھی ٹیکس لگ گیا اس لئے صرف اڑھائی فیصدی نسبت رکھی گئی۔