انوارالعلوم (جلد 20) — Page 453
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۳ دیباچہ تفسیر القرآن کرنے لگ جاتے ہیں اُن کی اصلاح کریں۔پھر وہ شریعت کی حکمتیں بیان کرتا ہے کہ کیوں خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت کا آنا ضروری ہے۔اس کے فوائد کیا ہیں اور شریعت انسان کی ترقی میں کیا مدددیتی ہے۔وہ صفات اور ذات کا فرق بیان کرتا ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ : ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔۵۶۰ وہ سخت غلطی خوردہ ہیں۔صفت ذات کی قائم مقام نہیں ہوسکتی۔صفت صفت ہی ہے اور ذات ذات ہی ہے۔قرآن کریم انسان کے مختار اور مجبور ہونے کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس حد تک انسان مجبور ہے اور کس حد تک مختار ہے اور پھر وہ اس پر روشنی ڈالتا ہے کہ انسان کی اس حد تک مجبور نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی سے بری ہو جائے یا اس کی اصلاح نہ ہو سکے۔ہاں وہ اس حد تک مجبور ضرور ہے کہ اس دائرہ عمل سے باہر نہیں جا سکتا جو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے تجویز کیا ہے۔انسان اپنی ساری کوششوں کے بعد انسان ہی رہے گا ہی نہ اُسے جمادات کی طرح بنایا جا سکتا ہے نہ وہ فرشتوں کی طرح بنایا جا سکتا ہے لیکن اپنے دائرہ کی کے اندراندر اُسے بہت کچھ طاقتیں حاصل ہیں اور بحیثیت انسان وہ کسی صورت میں بھی اصلاح اور نصیحت کے دائرہ سے باہر نہیں۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان کیسا لانا چاہئے۔اس کی ہستی کے ثبوت کیا ہیں۔اور وہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی تاریکی کے وقتوں میں اپنا کلام نازل کر کے اور اپنی غیر معمولی قدرتوں کو ظاہر کر کے اپنی ہستی کو ثابت کرتا رہتا ہے اور یہی اُس کے وجود کا حقیقی ثبوت ہے۔پس انبیاء اور اُن کے کامل اتباع کا ی وجود خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثابت کرنے کے لئے دنیا میں نہایت ضروری ہے۔اگر خدا تعالیٰ انبیاء اور اُن کے ابتاع کے آئینہ میں اپنی شکل نہ دکھاتا رہے تو دنیا شکوک وشبہاب کے گڑھے میں گر جائے اور خدا تعالیٰ کا وجود دنیا سے مٹ جائے۔پس جب تک دنیا قائم ہے خدا تعالیٰ سے کلام پانے والے اور اس کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہونے والے آدمی دنیا میں آتے رہیں گے اور یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نہ ہوگا کیونکہ ایمان کا قیام اس ذریعہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ ابتدائے عالم کی