انوارالعلوم (جلد 20) — Page 448
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴۸ دیباچہ تفسیر القرآن بھی معنی کئے ہیں کہ یاجوج و ماجوج کے زمانہ میں مردوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی کی (لیکن اس زمانہ میں بھی باوجود سائنس کی پوری ترقی کے ) اس بات میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔بہر حال قرآن کریم اس بات کا بھی منکر ہے کہ مرد ے دوبارہ اسی دنیا میں زندہ ہو کر آئیں۔اسی طرح وہ اس بات کا بھی منکر ہے کہ کوئی ہستی خدا تعالیٰ کے سوا حقیقی مخلوق پیدا کر سکے۔چنانچہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے والّذينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ الله لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ - اَمْوَاتٌ غَيْرُ احْيَاء وَ مَا يَشْعُرُونَ أيَّانَ يُبْعَثُونَ ۵۵۶ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا لوگ امداد کے لئے پکارتے ہیں۔وہ ذرا سی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں ، وہ مردے ہیں زندہ نہیں اور اُن کو تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ کب اُٹھا کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔اسی طرح قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی احمقانہ بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ حکیم ہے یعنی اُس کے سارے کام حکمت کے ساتھ ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں علاوہ اس کے کہ خدا تعالیٰ کا نام حکیم رکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا ۵۵۷ اے اسلام کے دشمنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنے کی متعلق تو یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تمہارے کام حکمت کے مطابق ہیں مگر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جو حکمت کے خلاف ہوتی ہی ہیں۔یہ تین باتیں یا اسی قسم کی اور باتیں اگر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائیں تو خواہ اُن کا نام معجزہ رکھا جائے ، خواہ ان کا نام کرامت رکھا جائے خواہ اِن کا نام جادو ر کھا جائے قرآن کریم اس کا مخالف ہے اور اس قسم کے معجزات نہ پہلے انبیاء کی طرف منسوب کرنا جائز سمجھتا ہے اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے معجزات منسوب کرتا ہے۔اس سے زیادہ احمقانہ بات کیا ہو گی کہ خدا تعالیٰ ایک قانون دنیا میں جاری کرے اور پھر خود ہی اُس قانون کو تو ڑ بھی دے کوئی معقول انسان بھی تو ایسے افعال نہیں کرتا۔اس قسم کی باتیں خدا تعالیٰ کے نبیوں کی طرف منسوب کرنا اُن کی عزت کو نہیں بڑھا تا بلکہ اُن کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلک بیوقوفوں کے زمرہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر عقلمند انسان کا کام ہے کہ اس بات کا مقابلہ کرے اور اس