انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 446

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴۶ دیباچہ تفسیر القرآن يخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُو وَالْمَرْجَانُ - نَباتِ الَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبن - وَلَهُ الْجَوَارِ المُنْشَتُتُ فِى البحر الاعلام - فَبِات الاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبن ۵۵۳ ان آیات میں یہ خبر دی گئی ہے کہ دنیا میں دوسمندر ہیں جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں ، لیکن ایک دن آئے گا جب وہ آپس میں ملا دیئے جائیں گے ان میں بڑے بڑے اُونچے جہا ز سفر کریں گے اور اِن سمندروں کی علامت یہ ہے کہ موتی اور مونگا اُن میں سے نکالا جاتا ہے۔یہ پیشگوئی بعینہ نہر سویز کی اور نہر پانامہ پر پوری ہوئی۔موتی اور مونگا بھی وہاں ہوتا ہے بڑے بڑے جہاز بھی اُن میں چلتے ہیں اور دو دو سمندر ان نہروں کے ذریعہ سے ملا دیئے گئے ہیں۔اسی طرح اور بیسیوں پیشگوئیاں ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں جو اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ سورۃ کہف کے پڑھنے سے ناظرین کو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں آخری زمانہ میں عیسائیوں کے غلبہ کی بھی خبر دی گئی ہے۔دنیا میں اُن کے پھیل جانے کی بھی خبر دی گئی ہے۔اُن کی سمندری طاقت کی بھی خبر دی گئی ہے۔اُن کی باہمی لڑائیوں کی بھی خبر دی گئی ہے اور آخر میں اسلام کی فتح اور کامیابی کی بھی خبر دی گئی ہے۔اور سب پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اب اسلام کی فتح کی پیشگوئی پوری ہونی باقی ہے۔یورپ کا عیسائی یا یورپ کا دہر یہ اگر اسلام کی کمزور حالت دیکھ کر ہنستا ہے تو ہنسا کرے مگر جس خدا نے وہ پیشگوئیاں پوری کی ہیں وہی خدا یہ آخری پیشگوئی بھی ضرور پوری کرے گا۔اسلام کی فتح کے دن آ رہے ہیں تمام تاریکیوں اور تمام ظلمتوں میں سے میں اسلام کے سورج کو جھانکتے ہوئے دیکھتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے اتر رہی ہیں۔بیشک شیطانی فوجوں کا اس وقت دنیا پر غلبہ ہے لیکن وہ دن قریب سے قریب تر آ رہے ہیں جب خدا کی فوجیں شیطان کی فوجوں کو شکست دے دیں گی۔جب خدا کی توحید دنیا میں پھر قائم ہوگی۔جب پھر دنیا یہ تسلیم کر لے گی کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو خدا اور بندے میں صلح کراتی ہے اور خدا کی بادشاہت کو اس دنیا میں قائم کرتی ہے اور بنی نوع انسان میں انصاف اور عدل کو قائم کرتی ہے۔معجزات عیسائی مؤرخ بالعموم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآن کریم اپنی نسبت معجزات کا مدعی نہیں۔سوائے اس کے کہ قرآن کریم کی نسبت یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ