انوارالعلوم (جلد 20) — Page 439
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۳۹ دیباچہ تفسیر القرآن ہمارے پاس موجود ہے اس کی سورتوں پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام سورتوں کے مضامین آپس میں ترتیب رکھتے ہیں۔اگر قرآن کی سورتیں بغیر ترتیب کے نازل ہوئی تھیں اور حضرت عثمانؓ نے اُن کو صرف ان کی لمبائی چھوٹائی کے لحاظ سے انہیں آگے پیچھے رکھ دیا تو کی سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ ان سورتوں کے مضامین بھی آپس میں ملنے لگ جاتے۔سورۃ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی تھی موجودہ قرآن میں وہ سب سے پہلے رکھی ہوئی ہے۔سورۃ بقرہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی درمیان میں نازل ہونے والی بہت سی سورتوں کو چھوڑ کرسورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ بقرہ رکھ دی گئی ہے۔یورپین مصنف کہتے ہیں کہ سورۃ بقرہ چونکہ سب سے لمبی سورۃ ہے اس لئے وہ قرآن میں اور سورتوں سے پہلے رکھ دی گئی ہے۔اول تو اس پر یہ اعتراض ہے کہ سورۃ بقرہ پہلی سورۃ نہیں پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔اور وہ تو صرف سات آیتوں پر مشتمل ہے اس کو پہلے کیوں رکھا گیا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر اتفاقی طور پر صرف لمبا ہونے کی وجہ سے سورۃ بقرہ کو سورۃ فاتحہ کے بعد رکھا گیا ہے تو اس کا کیا جواب ہے کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا آتی ہے کہ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۵۴۲ الہی تو مجھے سچا راستہ دکھا اور سورہ بقرہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ مذلِكَ الْكِتَبُ لا ريب فيه هُدًى لِلْمُتَّقِين ۵۴۳ یہی وہ کامل کتاب ہے اس میں کوئی شبہ نہیں جو متقیوں کے لئے ہدایت کے طور پر بھیجی گئی ہے۔آخر یہ کس طرح ہوا کہ اس اتفاقی حادثہ کے ساتھ دونوں کے مضامین بھی آپس میں مل گئے۔ایک کے آخر میں ہدایت کے لئے دعا ہے اور دوسری کے شروع میں اُس دعا کی قبولیت میں ہدایت دینے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ صرف ایک مثال نہیں سورۃ فاتحہ سے لے کر قرآن کریم کے آخر تک تمام سورتوں کے مضامین آپس میں ملتے چلے جاتے ہیں جی حالانکہ کبھی پہلی سورۃ مدنی ہوتی ہے اور دوسری مکی اور کبھی دوسری مدنی ہوتی ہے اور پہلی کی۔پس ی قرآن شریف کے مضامین کی ترتیب صاف بتا رہی ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب الہی منشاء کے ماتحت ہے۔رہا یہ سوال کہ نزول کی ترتیب بدل کر ایک دوسری ترتیب کیوں دی گئی ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن شریف نازل ہوا اُس وقت لوگ اسلامی مسائل سے بالکل ناواقف تھے۔