انوارالعلوم (جلد 20) — Page 438
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۳۸ دیباچہ تفسیر القرآن قرآن عثمان نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اُس کا مضمون وہی ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پیش کیا تھا۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔قرآن کریم کی سورتوں کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ترتیب سور و آیات حضرت عثمان کی قائم کردہ ہے لیکن یہ بالکل غلط بات ہے۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں سارا قرآن شریف نماز میں پڑھتے تھے اور بعض دفعہ دوسرے صحابہ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رمضان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارا قرآن جبریل کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے ۵۴۰ اب ایک غیر مسلم چاہے یہ نہ مانے کہ آپ جبریل کو پڑھ کر سنایا ج کرتے تھے مگر اتنا اُسے ماننا پڑے گا کہ آپ اُسے کسی ترتیب سے پڑھتے تھے اگر کوئی ترتیب نہیں تھی تو آپ پڑھتے کس طرح تھے ؟ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علیؓ ایک عرصہ تک حضرت ابو بکر سے ملنے نہ گئے حضرت ابو بکر نے اُن کو بلوایا اور پوچھا کہ علی ! کیا آپ میری خلافت پر ناراض ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا نہیں میں ناراض نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی تھی کہ میں قرآن کریم کو اُس ترتیب سے لکھ دوں گا جس ترتیب کے ساتھ وہ نازل ہوا تھا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن شریف کسی ترتیب سے پڑھا جاتا تھا مگر وہ ترتیب نزول والی ترتیب نہیں تھی۔اس لیے حضرت علیؓ نے خیال کیا کہ وہ قرآن کریم اُس کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے بھی لکھ دیں تا کہ تاریخی طور پر یہ حقیقت بھی لوگوں کے لئے محفوظ ہو جائے۔اسی طرح حدیثوں کی میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو آپ لکھنے والے کو بلا کر فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں داخل کر دو۔۵۴۱، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہامی طور پر بتایا جاتا تھا کہ فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھا ہے جائے اور فلاں آیت کو فلاں جگہ۔مگر سب سے بڑی شہادت واقعاتی شہادت ہے قرآن شریف