انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 406

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۰۶ دیباچہ تفسیر القرآن یتے۔ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر جبکہ سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اور اونٹوں کی تھیلیں اُٹھا لیں آپ نے فرمایا۔رِفقًا بِالْقَوَارِيرَ ارے کیا کرتے ہو؟ عورتیں بھی ساتھ ہیں اگر تم اس طرح اُونٹ دوڑاؤ گے تو شیشے چکنا چور ہو جائیں گے۔ایک دفعہ جنگ کے میدان میں کسی گڑ بڑ کی وجہ سے سواریاں بدک گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے سے گر گئے اور بعض مستورات بھی گر گئیں۔ایک صحابی جن کا اُونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرتے ہوئے دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور کو دکر یہ کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے یا رَسُولَ الله ! میں مرجاؤں آپ بچے رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں رکاب میں اُلجھے ہوئے تھے آپ نے جلدی جلدی اپنے آپ کو آزاد کیا اور اُس صحابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ” مجھے چھوڑو اور عورتوں کی طرف جاؤ“۔۳۷۸ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اُس وقت سب مسلمانوں کو جمع کر کے جو وصیتیں کیں اُن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ میں تم کو اپنی آخری وصیت کی یہ کرتا ہوں کہ عورتوں سے ہمیشہ حسنِ سلوک کرتے رہنا۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے جس کے گھر کی میں لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو تعلیم دلائے اور اُن کی اچھی تربیت کرے خدا تعالیٰ قیامت کے دن اُس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔۴۷۹ عربوں میں رواج تھا کہ اگر عورتوں سے کوئی غلطی ہو جاتی تو انہیں مار پیٹ لیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا۔عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں تمہاری لونڈیاں نہیں ان کو مت مارا کرو۔مگر عورتوں کی چونکہ ابھی تک پوری تربیت کی نہیں ہوئی تھی اُنہوں نے دلیری میں آکر مردوں کا مقابلہ شروع کر دیا اور گھروں میں فساد کی ہونے لگے۔آخر حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے روک دیا اور وہ بڑی بڑی دلیریاں کرتی ہیں۔ایسی صورت میں تو ہمیں اجازت ملنی چاہئے کہ ہم انہیں مار پیٹ لیا کریں۔چونکہ ابھی تک عورتوں کے متعلق تفصیل۔احکام نازل نہیں ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر کوئی عورت حد سے بڑھتی ނ