انوارالعلوم (جلد 20) — Page 404
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۰۴ دیبا چه تفسیر القرآن ساتھ بٹھا کر کم سے کم تھوڑا سا کھانا ضرور کھلاؤ کیونکہ اُس نے کھانا پکا کر اپنا حق قائم کر لیا ہے۔ ۴۷۳ بنی نوع انسان کی خدمت آپ اُن لوگوں کا خاص خیال رکھتے تھے جو بنی نوع انسان کی خدمت میں اپنا وقت خرچ کرتے تھے۔ جب طی کرنے والوں کا احترام قبیلہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ اسے مد علیه وسلم لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہو کر آئے تو اُن میں حاتم کی جو عرب کا مشہور سیخی گزرا ہے بیٹی بھی تھی ، جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ وہ حاتم کی بیٹی ہے تو آپ نے نہایت ہی ادب اور احترام کا معاملہ اُس سے کیا اور اُس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزائیں معاف کر دیں ۔۴۷۴ عورتوں سے حسن سلوک عورتوں سے حسن سلوک کا آ، کا آپ خاص خیال رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے دنیا میں عورت کے ورثہ کا حق قائم کیا۔ چنانچہ قرآن کریم میں لڑکے اور لڑکیاں باپ اور ماں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں ۔ اسی طرح مائیں اور بیویاں بیٹیوں اور خاوندوں کے ورثہ میں اور بعض صورتوں میں بہنیں بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں ۔ اسلام سے پہلے دنیا کے کسی مذہب نے بھی اس حقوق قائم نہیں گئے ۔ اسی طرح آپ گئے ۔ اسی طرح آپ نے عورت کو اس کے مال کا مستقل ما لک قرار ما لک قرار دیا ہے خاوند کو حق نہیں کہ خاوند ہونے کی وجہ سے عورت کے مال میں دست اندازی کر سکے ۔ عورت اپنے طرح مال کے خرچ کرنے میں پوری مختار ہے۔ عورتوں سے حسن سلوک میں آپ ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب لوگ جو اس بات کے عادی نہ تھے ان کو یہ بات دیکھ کر ٹھوکر لگتی تھی ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بعض دفعہ میری باتوں میں دخل دیتی تو میں اُس کو ڈانٹا کرتا رتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگوں نے کبھی عورتوں کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ مردوں کو اُن کے کاموں میں مشورہ دیں۔ اس پر میری بیوی کہا کرتی کہ جاؤ جاؤ ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں اور آپ اُن کو کبھی نہیں روکتے تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ اس پر میں اُسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت لاڈلی ہے اُس کا ذکر نہ کرو، باقی رہی تمہاری بیٹی سوا گر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنی گستاخی کی سزا کسی دن پائے گی ۔