انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 378

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن میرے دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا کام بھی ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں یا جو تعریف کا مستحق نہیں۔اے ہمارے رب! ہمیں ایسا ہی بنا دے۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کبھی ان الفاظ میں دعا کرتے تھے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَارْوَانَا غَيْرَ مُكْفِي وَلَا مَكْفُور 10 یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی۔ہمارا دل اُس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اُس کی کبھی ناشکری نہ کریں۔آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دو اور فرماتے تھے ایک انسان کا کھانا دوانسانوں کے لئے کافی ہونا چاہئے۔جب کبھی آپ کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو۔۴۱۲ اسی طرح اپنے ہمسایوں کے گھروں میں آپ اکثر ہد یہ بجھواتے رہتے تھے۔۴۱۳ پ اپنے مسکین صحابہ کی شکلوں سے ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھوکا تو نہیں۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کئی دن فاقہ سے رہے۔ایک دن جب سات وقت فاقہ سے گزر گئے تو وہ بے تاب ہو کر مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتفاقاً حضرت ابو بکر وہاں سے گزرے تو اُنہوں نے ان سے ایک ایسی آیت کا مطلب پوچھا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے۔حضرت ابوبکر نے ان کی بات سے سمجھا کہ شاید اس آیت کے معنی ان کو معلوم نہیں اور وہ اس آیت کے معنی بیان کر کے آگے چل دیئے۔حضرت ابو ہریرہ جب لوگوں کے سامنے یہ روایت بیان کرتے تو غصہ سے کہا کرتے کہ کیا ابوبکر مجھ سے زیادہ قرآن جانتا تھا ! میں نے تو اس لئے آیت پوچھی تھی کہ ان کو اس آیت کے مضمون کا خیال آجائے اور مجھے کھانا کھلا دیں۔اتنے میں حضرت عمر وہاں سے گزرے۔ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے ان سے بھی اس آیت کا مفہوم پوچھا۔حضرت عمرؓ نے بھی اس آیت کا مطلب بیان کر دیا اور ی آگے چل دیئے۔صحابہ سوال کو سخت نا پسند کرتے تھے۔جب ابو ہریرۃ نے دیکھا کہ بے مانگے کھانا ملنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ کہتے ہیں میں بالکل نڈھال ہو کر گرنے لگا کیونکہ اب زیادہ صبر کی مجھ میں طاقت نہیں تھی مگر میں نے ابھی دروازہ سے منہ نہیں موڑا تھا کہ میرے کان میں