انوارالعلوم (جلد 20) — Page 357
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۷ دیا چه تفسیر القرآن اور اپنے کانوں سے اور اپنے دل سے زیادہ عزیز ہو گئے۔پھر آپ نے فرمایا شیبہ! آگے بڑھو اور لڑو۔تب میں آگے بڑھا اور اُس وقت میرے دل میں سوائے اس کے کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاؤں۔اگر اُس وقت میرا باپ زندہ ہوتا اور میرے سامنے آجاتا تو میں اپنی تلوار اُس کے سینہ میں بھونک ۳۷۴ دینے سے ایک ذرہ دریغ نہ کرتا۔۳۷۵ اس کے بعد آپ طائف کی طرف روانہ ہوئے۔وہی شہر جن کے باشندوں نے پتھراؤ کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر سے نکال دیا تھا۔اُس شہر کا آپ نے کچھ عرصہ تک محاصرہ کیا لیکن پھر بعض لوگوں کے مشورہ دینے پر کہ ان کا محاصرہ کر کے وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں سارے عرب میں اب صرف یہ شہر کر ہی کیا سکتا ہے آپ محاصرہ چھوڑ کر چلے آئے اور کچھ عرصہ کے بعد طائف کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔فتح مکہ اور حسنین کے بعد ان جنگوں سے فارغ ہونے کے بعد وہ اموال جو مطلوب دشمنوں کے جرمانوں اور میدانِ جنگ میں چھوڑی ہوئی چیزوں سے جمع ہوئے تھے حسب دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی لشکر میں تقسیم کرنے تھے۔لیکن اس موقع پر آپ نے بجائے ان اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے مکہ اور اردگرد کے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ان لوگوں کے اندرا بھی ایمان تو پیدا نہیں ہوا تھا بہت سے تو ابھی کا فر ہی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی کہ ایک قوم اپنا مال دوسرے لوگوں میں بانٹ رہی ہے۔اس مال کی تقسیم سے بجائے ان کے دل میں نیکی اور تقویٰ پیدا ہونے کے حرص اور بھی بڑھ گئی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمگھٹا ڈال لیا اور مزید مطالبات کے ساتھ آپ کو تنگ کرنا شروع کیا یہاں تک کہ دھکیلتے ہو ہوئے وہ آپ کو ایک درخت تک لے گئے اور ایک شخص نے تو آپ کی چادر جو آپ کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھی پکڑ کر اس طرح مروڑنی شروع کی کہ آپ کا سانس رکنے لگا۔آپ نے فرمایا اے لوگو! اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو میں وہ بھی تمہیں دے دیتا تم مجھے کبھی بخیل یا بز دل نہیں پاؤ گے۔۳۷۶ پھر آپ اپنی اونٹنی کے پاس گئے اور اس کا ایک بال تو ڑا اور اسے اونچا