انوارالعلوم (جلد 20) — Page 24
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴ دیباچہ تفسیر القرآن ہیں اور قرآن کریم کے وہ حصے جو ان کے متعلق ہیں اس کے عارفوں پر روشن ہو گئے ہیں پس اس زمانہ میں پرانی تفسیروں کی اس کمی کو پورا کرنا بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وجوہات مندرجہ بالا کی موجودگی میں یہ ترجمہ اور تفسیر جو ہم پیش کر رہے ہیں صرف نا قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت کو پورا کر رہا ہے، ہم اسے پورا کر کے اپنا کی حق ادا کر رہے ہیں۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے پیش کردہ ترجمہ اور تفسیر کو غور سے پڑھیں گے اور تعصب سے آزاد ہو کر اس کا مطالعہ کریں گے وہ اسلام کو ایک نئے زاویہ سے دیکھنے پر مجبور ہوں گے اور اُن پر ثابت ہو جائے گا کہ اسلام نقائص سے پر مذہب نہیں جیسا کہ مغربی مصنفوں نے پیش کیا ہے بلکہ وہ روحانی علم کا ایک خوبصورت باغ ہے جس میں سیر کرنے والا ہر قسم کی خوشبو اور ہر قسم کے حسن کے نظارہ سے مستفیض ہوتا ہے اور وہ اُس آسمانی جنت کا ایک مکمل ارضی نقشہ ہے جس کا وعدہ سب مذاہب کے بانی دیتے چلے آئے ہیں۔قرآن کریم کی ضرورت آج سے قریب سوا تیرہ سو سال پہلے جب قرآن کریم نازل ہوا دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب اور بہت سی کتابیں موجود تھیں۔عرب کے ارد گرد عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دونوں کے ماننے والے پائے جاتے تھے۔خود بعض عرب بھی عیسائی ہو چکے تھے یا عیسائیت کی طرف رغبت رکھتے تھے۔اسی طرح بعض عرب یہودیوں کے مذہب میں بھی شامل ہوتے رہتے تھے ، چنانچہ مدینہ کا کعب بن اشرف یہودِ مدینہ کا سردار مشہور دشمن اسلام اور اس کا باپ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔کعب کا باپ طی قبیلہ سے تھا۔یہود سے اسے ایسی عقیدت ہوئی کہ ابورافع بن ابی حقیق یہودی نے اس سے اپنی لڑکی کی شادی کر دی اور اس یہودی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا لے مکہ مکرمہ میں علاوہ عیسائی غلاموں کے خود مکہ کے بعض باشندے بھی عیسائیت کی طرف رغبت رکھتے تھے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی حضرت خدیجہ کے بھائی ورقہ بن نوفل نہ صرف یہ کہ عیسائی عقائد رکھتے تھے بلکہ انہوں نے کچھ عبرانی بھی سیکھی تھی اور وہ عبرانی انا جیل سے عربی میں ترجمہ کرتے تھے۔بخاری میں لکھا ہے كَانَ إِمْرَأَ قَدْ