انوارالعلوم (جلد 20) — Page 334
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۳۴ دیباچہ تفسیر القرآن۔عورت کو مارنا اور نہ کسی بچے کو مارنا اور نہ کسی اندھے کو مارنا اور نہ کسی بڑھے کو مارنا۔نہ کوئی درخت کاٹنا نہ عمارت گرانا۔یہ نصیحت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹے اور اسلامی لشکر شام کی طرف روانہ ہوا۔یہ پہلا لشکر تھا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے مقابلہ کے لئے نکلا۔جب یہ لشکر شام کی سرحد پر پہنچا تو ا سے معلوم ہوا کہ قیصر بھی اس طرف آیا ہوا ہے اور ایک لاکھ رومی سپاہی اس کے ساتھ ہیں اور ایک لاکھ کے قریب عرب کے عیسائی قبائل کے سپاہی بھی اس کے ساتھ ہیں۔اس پر مسلمانوں نے چاہا کہ وہ راستہ میں ڈیرہ ڈال دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں تا کہ اگر آپ نے کوئی اور مدد بھیجنی ہو تو بھیج دیں اور اگر کوئی حکم دینا ہو تو اس سے اطلاع دیں۔جب یہ مشورہ ہو رہا تھا عبداللہ بن رواحہ جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہا اے قوم! تم اپنے گھروں سے خدا کے راستہ میں شہید ہونے کیلئے نکلے تھے اور جس چیز کے لئے تم نکلے تھے اب اُس سے گھبرا ر ہے ہو اور ہم لوگوں سے اپنی تعداد اور اپنی قوت اور اپنی کثرت کی وجہ سے تو لڑائیاں نہیں کرتے رہے۔ہم تو اس دین کی مدد کیلئے دشمنوں سے لڑتے رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے نازل کیا ہے۔اگر دشمن زیادہ ہے تو ہوا کرے۔آخر دو نیکیوں میں سے ہم کو ایک ضرور ملے گی یا ہم غالب آجائیں گے یا ہم خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں گے۔لوگوں نے اُن کی یہ بات سن کے کہا ابن رواحہ کی بالکل سچ کہتے ہیں اور فوراً کوچ کا حکم دے دیا گیا۔جب وہ آگے بڑھے تو رومی لشکر انہیں اپنی کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو مسلمانوں نے موتہ کے مقام پر اپنی فوج کی صف بندی کر لی اور لڑائی کی شروع ہو گئی۔تھوڑی ہی دیر میں زید بن حارثہؓ جو مسلمانوں کے کمانڈر تھے مارے گئے تب اسلامی فوج کا جھنڈا جعفر بن ابی طالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی نے اپنے کی ہاتھ میں لے لیا اور فوج کی کمان سنبھال لی۔جب اُنہوں نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کا ریلاکی بڑھتا چلا جاتا ہے اور مسلمان اپنی تعداد کی قلت کی وجہ سے ان کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ جوش سے گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔جس کے معنی یہ تھے کہ کم سے کم میں تو اس میدان سے بھاگنے کے لئے تیار نہیں ہوں میں موت کو پسند کروں گا مگر بھاگنے کو پسند نہیں کروں گا۔یہ ایک عربی رواج تھا۔وہ گھوڑے کی ٹانگیں اس لئے کاٹ دیتے