انوارالعلوم (جلد 20) — Page 331
انوار العلوم جلد ۲۰ ٣٣١ کوشش کرتیں کہ یہ واقعہ اُن کی یاد سے بھول جائے۔لیکن میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں اور ۰ ۸ سال کی ہو کر فوت ہوئیں۔مگر اس برکت والے تعلق کو وہ ساری عمر بھلا نہ سکیں۔۷۰ سال کی عمر میں جب جوانی کے جذبات سب سرد ہو چکے ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچاس سال بعد جو عرصہ ایک مستقل عمر کہلانے کا مستحق ہے میمونہ فوت ہوئیں اور اُس وقت اُنہوں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکہ کے باہر ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا اور جس جگہ پہلی دفعہ میں آپ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی میری قبر بنائی جائے اور اُس میں مجھے دفن کیا جائے۔۳۴۵ دنیا میں سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصے کہانیاں بھی مگر بچے نوادر میں سے بھی اور قصے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس کی گہری محبت سے زیادہ پرتاثیر پیش کیا جاسکتا ہے؟ خالد بن ولید اور عمر و بن زیارت کعبہ سے واپسی کے بعد جلد ہی دو ایسے آدمی اسلام میں داخل ہوئے جو اسلامی جنگوں کے شروع سے العاص کا قبولِ اسلام لے کر اس وقت تک کفار کے زبردست جرنیلوں میں شامل تھے اور جو اسلام لانے کے بعد اسلام کے ایسے مشہور جرنیل ثابت ہوئے کہ تاریخ اسلام میں سے ان لوگوں کا نام مٹایا نہیں جا سکتا۔یعنی خالد بن ولیڈ جس نے بعد میں روما کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں اور علاقہ کے بعد علاقہ فتح کر کے اسلامی حکومت میں داخل کیا اور عمر و بن العاص جنہوں نے مصر کو فتح کر کے اسلامی حکومت میں شامل کیا۔جنگ موتہ جب آپ زیارت کعبہ سے واپس آئے تو آپ کو اطلاعات ملنی شروع ہوئیں کہ شام کی سرحد پر عیسائی عرب قبائل یہودیوں اور کفار کے اُکسانے پر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ نے پندرہ آدمیوں کی ایک پارٹی اس غرض کے لئے شام کی سرحد پر بجھوائی کہ وہ تحقیقات کریں کہ یہ افواہیں کہاں تک صحیح ہیں۔جب یہ لوگ شامی سرحد پر پہنچے تو وہاں دیکھا کہ ایک لشکر جمع ہو رہا ہے۔بجائے اس کے کہ یہ لوگ واپس آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے تبلیغ کا جوش جو اُس زمانہ میں مؤمن کی کچی علامت ہوا