انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 310

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱۰ دیا چه تفسیر القرآن کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت عمرؓ نے کہا پھر آپ نے یہ معاہدہ آج کیوں کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر ! خدا تعالیٰ نے مجھے یہ تو فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف امن سے کریں گے مگر یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ ہم اسی سال کریں گے یہ تو میرا اپنا اجتہا تھا۔اسی طرح بعض دوسرے صحابہؓ نے یہ اعتراض کیا کہ یہ اقرار کیوں کر لیا گیا ہے کہ اگر مکہ کے لوگوں میں سے کوئی نوجوان مسلمان ہوا تو اس کے باپ یا ولی کی طرف واپس کر دیا جائے گا لیکن جو مسلمان مکہ والوں کی طرف جائے گا اُسے مکہ والے واپس کرنے پر مجبور نہ ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں کون سے حرج کی بات ہے ہر شخص جو مسلمان ہوتا ہے وہ اسلام کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوتا ہے رسمی اور رواجی طور پر مسلمان نہیں ہوتا۔ایسا شخص جہاں بھی رہے گا وہ اسلام کی تبلیغ کرے گا اور اسلام کی اشاعت کا موجب ہوگا لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوتا ہے ہم نے اُسے اپنے اندر رکھ کر کرنا کیا ہے۔جو شخص ہمارے مذہب کو جھوٹا سمجھ بیٹھا ہے وہ ہمارے لئے کس فائدہ کا موجب ہوسکتا ہے۔آپ کا یہ جواب ان غلطی خوردہ مسلمانوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔اگر اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر اصرار کرتے کہ ہر مرتد واپس کیا جائے تا کہ اُس کو اُس کے جرم کی سزادی جائے۔جس وقت یہ معاہدہ لکھ کرختم ہوا اور اس پر دستخط کر دیئے گئے۔اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کی صحت کے پر کھنے کا سامان پیدا کر دیا۔سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا اس کا اپنا بیٹا رسیوں سے جکڑا ہوا اور زخموں سے چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر گرا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں اور اسلام کی وجہ سے میرا باپ مجھے یہ تکلیفیں دے رہا ہے۔میرا باپ یہاں آیا می تو میں موقع پا کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ اس کے باپ نے کہا معاہدہ ہو چکا ہے اور اِس نوجوان کو واپس میرے ساتھ جانا ہوگا۔ابو جندل کی حالت اُس وقت مسلمانوں کے سامنے تھی وہ اپنے ایک بھائی کو جو اپنے باپ کے ہاتھوں سے اس قدر ظلم برداشت کر رہا تھا واپس جانا دیکھ نہیں سکتے تھے۔اُنہوں نے تلوار میں میانوں سے نکال لیں اور اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ وہ مر جائیں گے مگر اپنے بھائی کو اس تکلیف کی