انوارالعلوم (جلد 20) — Page 276
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶ دیباچہ تفسیر القرآن اس موقع پر منافق تو اتنے گھبرا گئے منافقوں اور مؤمنوں کی حالت کا بیان کہ قومی حمیت اور اپنے شہر اور اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا خیال بھی اُن کے دلوں سے نکل گیا۔مگر چونکہ اپنی قوم کے سامنے وہ ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے اُنہوں نے بہانے بہانے سے لشکر سے فرار کی صورت سوچی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَيَسْتأذن فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيِّ يَقُولُونَ إنّ بيوتنا عَوْرَةُ : وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ : إن يُرِيدُونَ اِلَّا فِرَارًا ۲۸۵ یعنی ایک گروہ کی اُن میں سے رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ اُنہیں محاذ جنگ سے پیچھے لوٹ آنے کی اجازت دی جائے۔کیونکہ اُنہوں نے کہا ( اب یہودی بھی مخالف ہو گئے ہیں اور اُس طرف سے مدینہ کے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں ) اور ہمارے گھر اُس علاقہ کی طرف سے بے حفاظت کھڑے ہیں ( پس ہمیں اجازت دیجئے کہ جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں ) لیکن اُن کا یہ کہنا کہ اُن کے گھر بے حفاظت کھڑے ہیں بالکل غلط ہے۔وہ بے حفاظت نہیں ہیں کیونکہ خدا تعالی مدینہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے ) وہ تو صرف ڈر کے مارے میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔اُس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اُس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے۔اِذْ جَارُوكُمْ مِّن فَوْقِكُمْ وَ مِن أسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ و بلغت القلوبُ الحَنَاجِرَةِ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِي المُؤْمِنُونَ و زُلْزِلُوا زِلْزَالَا شَدِيدًا - وَ اِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مرض ما وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُؤلة إلّا غُرُورًا - وَ اِذْ قَالَتْ طَائِفَةً مِّنْهُمْ ياهل يثرب لا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا - ۲۸۶ یعنی یاد تو کرو جب تم پر لشکر چڑھ کے آ گیا تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی۔یعنی نیچے کی طرف سے کفار اور اُوپر کی طرف سے یہود۔جب کہ نظریں کج ہونے لگ گئیں اور دل اُچھل اچھل کر گلے تک آنے لگے اور تم میں سے کئی خدا کی نسبت بدظنیاں کرنے لگ گئے۔اُس وقت مؤمنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا اور مؤمنوں کو سر سے پیر تک ہلا دیا گیا اور یاد کرو جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا اُنہوں نے کہنا شروع کیا اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وو