انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 275

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۷۵ دیباچہ تفسیر القرآن تم اس کا مقابلہ کرو ایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کر کے اِدھر حملہ کر دے۔اُس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔تب حضرت صفیہ نے خود ایک بڑا بانس لے کر اُس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اُس کو مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔۲۸۲ آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنو قریظہ کا جاسوس تھا۔تب تو مسلمان اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور سمجھے کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور جیسا کہ او پر لکھا جا چکا ہے بارہ سو سپاہیوں میں سے پانچ سو کو عورتوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ ہیں ہزار شکر کے مقابلہ کے لئے صرف سات سو سپاہی رہ گئے۔اس حالت میں بعض مسلمان گھبرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رَسُولَ الله! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں۔اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ، آپ اس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھلائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔آپ نے فرمایا تم لوگ گھبراؤ نہیں تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ تمہاری کمزوریوں پر وہ پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور گھبراہٹ کو دور فرمائے۔اور پھر آپ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی۔اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَبِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمُ وَزَلْزِلَهُمْ ۸۳ اور اسی طرح یہ دعا فرمائی۔يَا صَرِيحَ الْمَكْرُوبِينَ يَامُجِيبَ الْمُضْطَرِيْنَ اكشِفُ هَمِّي وَ غَمِّيُ وَكَرُبِى فَإِنَّكَ تَرى مَانَزَلَ بِى وَ بِاَصْحَا بِي " ۱۸۴ اے اللہ ! جس نے قرآن کریم مجھ پر نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہو کر آئے ہیں ان کو شکست دے۔اے اللہ ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تو انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ دے اور اُن کے ارادوں کو متزلزل کر دے۔اے دردمندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے ! میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دور کر کیونکہ تو ان مصائب کو جانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو درپیش ہیں۔