انوارالعلوم (جلد 20) — Page 270
انوار العلوم جلد ۲۰ ٢٠ دیبا چه تفسیر القرآن بارہ تیرہ سو اور بعض نے سات سو ۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی : اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مورخین اسے حل نہیں کر سکے۔ لیکن میں نے اس کی حقیقت کو پالیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں ۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ جنگ اُحد میں منافقین کے واپس آ جانے کے بعد مسلمانوں کا لشکر صرف سات سو افراد پر مشتمل تھا ۔ جنگ احزاب اس کے صرف دو سال کے بعد ہوئی ہے اور اس عرصہ میں کوئی بڑا قبیلہ اسلام لا کر مدینہ میں آ کر نہیں بسا۔ پس سات سو آدمیوں کا یکدم تین ہزار ہو جانا قرین قیاس نہیں ۔ دوسری طرف یہ امر بھی قرین قیاس نہیں کہ اُحد کے دو سال بعد تک با وجود اسلام کی ترقی کے قابلِ جنگ مسلمان اتنے ہی رہے جتنے اُحد کے وقت تھے ۔ پس ان دونوں تنقیدوں کے بعد وہ روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑنے کے قابل مسلمان جنگ احزاب کے وقت کوئی بارہ سو تھے ۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر کسی نے تین ہزار اور کسی نے سات سو کیوں لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دو روایتیں الگ الگ حالتوں اور نظریوں کے ماتحت بیان کی گئی ہیں۔ جنگ احزاب کے تین حصے تھے ایک حصہ اس کا وہ تھا جب ابھی دشمن مدینہ کے سامنے نہ آیا تھا اور خندق کھودی جا رہی تھی ۔ اس کام میں کم سے کم مٹی ڈھونے کی خدمت بچے بھی کر سکتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کام میں مدد دے سکتی تھیں ۔ پس جب تک خندق کھودنے کا کام رہا مسلمان لشکر کی تعداد تین ہزار تھی مگر اس میں بچے بھی شامل تھے اور صحابیہ عورتوں کے جوش کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی۔ یہ میرا خیال ہی نہیں تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے جب خندق کھودنے کا وقت آیا سب لڑکے بھی جمع کر لئے گئے اور تمام مرد خواہ بڑے تھے خواہ بچے، خندق کھود نے یا اُس میں مدد دینے کا کام کرتے تھے، پھر جب دشمن آ گیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام لڑکوں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے ، انہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہریں خواہ چلے جائیں ۔ ۲۸۰ اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کے وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور جنگ کے وقت کم ہو گئی کیونکہ نابالغوں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ پس جن