انوارالعلوم (جلد 20) — Page 267
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۷ دیباچہ تفسیر القرآن منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خدا کا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہواُسی منہ سے تم کو یہ بات کہنی ہوگی کہ خدا کا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔جب تک تم یہ نہ کہو میں تمہیں ہرگز آگے نہ جانے دوں گا۔عبداللہ بن ابی بن سلول حیران اور خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا اے میرے بیٹے ! میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں ، محمد معزز ہے اور میں ذلیل ہوں۔نوجوان عبد اللہ نے اس پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا۔۲۷۷ مدینہ پر سارے عرب کی چڑھائی غزوہ خندق اس سے پہلے یہود کے دو قبیلوں کا ذکر کیا جا چکا ہے جولڑائی ، فساد قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کر دیئے گئے تھے۔ان میں سے بنونضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اور ایک قلعہ بند شہر تھا۔یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلا نا شروع کیا۔مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے ، کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔اسی طرح غطفان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنوا سد دو اور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنو سعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اُس کو بھی کفار مکہ کا ساتھ دینے کے لئے تیا ر کیا۔ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبر دست قبائل کے ایک اتحاد عام کی بنیا درکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔مکہ کے اردگرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔ان سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبر دست لشکر تیار کیا۔یہ ماہ شوال ۵ ہجری آخر فروری و مارچ ۶۲۷ ء کا واقعہ ۲۸ مختلف مورخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا یقیناً چوبیس ہزار والا ہے۔