انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 264

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۴ دیباچہ تفسیر القرآن اونٹ چرانے جنگل کو گئے ہوئے تھے۔واپسی پر اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے چھیاسٹھ ساتھی کی میدان میں مرے پڑے ہیں۔دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ایک نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس حادثہ کی اطلاع دیں۔دسرے نے کہا جہاں ہماری جماعت کا سردار جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا قتل کیا گیا ہے میں اُس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔یہ کہتے ہوئے وہ تن تنہا کفار پر حملہ آور ہوا اور لڑتا ہوا ما را گیا۔دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا مگر بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی تھی کی وہ چھوڑ دیا گیا۔قتل ہونے والوں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے جو حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام تھے۔اُن کا قاتل ایک شخص جبار بن سلمی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔جبار کہا کرتا تھا کہ عامر کاقتل ہی میرے مسلمان ہونے کا موجب ہوا تھا۔جبار کہتا ہے کہ جب میں جبار کو قتل کرنے لگا تو میں نے عامر کو یہ کہتے سنا فُرتُ والله خدا کی قسم ! میں نے اپنی مراد کو پالیا۔اس کے بعد میں نے ا س سے پوچھا۔جب مسلمان کو موت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟ اُس شخص نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کی راہ میں موت کو نعمت اور فتح سمجھتا ہے۔جبار پر اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا اور بالآخر مسلمان ہو گیا۔۲۷۶ ان دواند و ہناک واقعات کی خبر جس میں قریباً ۰ ۸ مسلمان ایک شرارت آمیز سازش کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے فوراً مدینہ پہنچ گئی۔مقتولین کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ حفاظ قرآن تھے۔وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے ، نہ انہوں نے کسی کو دُکھ دیا تھا۔وہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں تھے بلکہ اللہ اور مذہب کا جھوٹا واسطہ دیکر وہ دھو کے سے دشمن کے تصرف میں دے دیئے گئے تھے۔ان واقعات سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو اسلام سے سخت دشمنی تھی۔اس کے بالمقابل اسلام کے حق میں مسلمانوں کا جوش بھی نہایت گہرا اور پائدار تھا۔غزوہ بنی مصطلق جنگ اُحد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا۔مکہ والوں کو جو دشمنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور جو تدابیر وہ آپ کے برخلاف لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی ملک بھر میں کر رہے تھے ، بالکل نظر انداز کر کے آنحضرت ﷺ نے اس سخت مصیبت کے وقت میں مکہ کے غرباء کی امداد کے لئے ایک رقم جمع کی ،مگر اس خیر خواہی کی