انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 257

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۵۷ دیباچه تفسیر القرآن سے ادھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آ جائے ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مائی ! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔ اِس پر نیک عورت نے کہا۔ حضور ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔” مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔ ۲۶۸ کیا عجیب محاورہ ہے۔ محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتا ہے غم انسان کو کھا جاتا ہے۔ وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اُس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اس غم کو کھا جاؤں گی ۔ میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہو گی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُس نے جان دی میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہوگا ۔ اے انصار ! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے ۔ بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے مدینہ پہنچے ۔ گو اس لڑائی میں بہت سے مسلمان مارے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی ۔ جو واقعات میں نے اوپر بیان کئے ہیں اُن کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے پھر اپنا اصل کام یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاح نفس کا شروع کر دیا۔ مگر آپ یہ کام سہولت سہولت ا اور آسانی سے نہیں کر سکے ۔ اُحد کے واقعہ کے بعد یہود میں اور بھی دا دلیری پیدا ہو گئی اور منافقوں نے اور بھی سر اٹھانا شروع کر دیا اور وہ سمجھے کہ شاید اسلام کو مٹا دینا انسانی طاقت کے اندر کی بات ہے۔ چنانچہ یہودیوں نے طرح طرح سے آپ کو تکلیفیں دینی شروع کر دیں ۔ گندے شعر بنا کر اُن میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی ہتک کی جاتی تھی ۔ ایک دفعہ آپ کو کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہودیوں کے قلعہ میں جانا پڑا تو اُنہوں نے ایک تجویز کی کہ جہاں آپ بیٹھے تھے اُس کے اُوپر سے ایک بڑی سل گرا کر آپ شہید کر دیئے جائیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر بتا دیا اور آپ وہاں سے بغیر کچھ کہنے کے چلے آئے ۲۶۹۔ بعد میں یہووں نے اپنے قصور کو تسلیم کر لیا۔