انوارالعلوم (جلد 20) — Page 255
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۵۵ دیباچہ تفسیر القرآن مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دیئے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں اُن میں خود آپ کے چچا حمزہ بھی تھے۔آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کفار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اُس بدلہ کو جائز بنادیا ہے جس کو ہم نا جائز سمجھتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفار جو کچھ کرتے ہیں اُن کو کرنے دو تم رحم اور انصاف کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو۔۲۶۶ جنگ اُحد سے واپسی اور واپسی اور جب اسلامی لشکر واپس مدینہ کی طرف لوٹا تو اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے جذبات فدائیت کی شہادت اور اسلامی فکر کی پراگندگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔مدینہ کی عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحد کی طرف دوڑے جا رہے تھے۔اکثر کو تو راستہ میں خبر مل گئی اور وہ رُک گئے ، مگر بنو دینا ر قبیلہ کی ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد تک جا پہنچی۔جب وہ دیوانہ وار اُحد کے میدان کی طرف جارہی تھی اُس عورت کا خاوند اور بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا تی بھی مارا گیا تھا۔جب اُسے اُس کے باپ کے مارے جانے کی خبر دی گئی تو اُس نے کہا مجھے بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ خبر دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے وہ باری باری اُسے اس کے بھائی اور خاوند اور بیٹے کی موت کی خبر دیتے چلے گئے مگر وہ یہی کہتی چلی جاتی تھی مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم “۔ارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ بظاہر یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ غلط نہیں بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست ہے۔عورت کی کے جذبات بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ بسا اوقات مُردوں کو زندہ سمجھ کر کلام کرتی ہے۔جیسے بعض عورتوں کے خاوند یا بیٹے مرجاتے ہیں تو اُن کی موت پر اُن سے مخاطب ہو کر وہ اس قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ مجھے کس پر چھوڑ چلے ہو؟ یا بیٹا ! اس بڑھاپے میں مجھ سے کیوں منہ موڑ لیا ؟ یہ شدت غم میں فطرتِ انسانی کا ایک نہایت لطیف مظاہرہ ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ