انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 249

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۹ دیباچہ تفسیر القرآن ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف سات سو رہ گئے جو تعداد میں کفار کی تعداد سے چوتھے حصہ سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور۔کیونکہ کفار میں سات سو زرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صرف ایک زرہ پوش۔اور کفار میں دو سو گھوڑ سوار تھا مگر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔آخر آپ اُحد پر پہنچے۔وہاں پہنچ کر آپ نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر کئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ وہ درہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم اس جگہ سے نہ ہلنا۔۳۶۰ے اس کے بعد آپ بقیہ ساڑھے چھ سو آدمی لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے جو اب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی ہی دیر میں ساڑھے چھ سو مسلمانوں کے مقابلہ میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کا رسپاہی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔فتح مبدل به شکست مسلمانوں مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کیا، تو ان لوگوں نے جو پشت کے درہ کی حفاظت کے لئے کھڑے تھے اُنہوں نے اپنے افسر سے کہا اب تو دشمن کو شکست ہو چکی ہے اب ہمیں بھی جہاد کا ثواب لینے دیا جائے۔افسر نے اُن کو اس بات سے روکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلائی مگر اُنہوں نے کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا صرف تاکید کے لئے فرمایا تھا ورنہ آپ کی مراد یہ تو نہیں ہو سکتی تھی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو یہاں کھڑے رہو۔یہ کہہ کر اُنہوں نے درہ چھوڑ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔بھاگتے ہوئے لشکر میں سے خالد بن ولید کی جو بعد میں اسلام کے بڑے بھاری جرنیل ثابت ہوئے نظر خالی درہ پر پڑی جہاں صرف چند آدمی اپنے افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔خالد نے کفار کے لشکر کے دوسرے جرنیل عمرو بن العاص کو آواز دی اور کی کہا۔ذرا پیچھے پہاڑی درہ پر نگاہ ڈالو۔عمرو بن العاص نے جب درہ پر نگاہ ڈالی تو سمجھا کہ عمر کا بہترین موقع مجھے حاصل ہو رہا ہے دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دوستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں درہ کی حفاظت کے لئے کھڑے رہ گئے تھے ، اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے پشت پر سے اسلامی لشکر پر آ پڑے۔اُن کے فاتحانہ نعروں کو سن کر سامنے کا بھاگتا ہوا بقیہ لشکر بھی میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑا۔یہ