انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 14

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک رہو اصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے براہین احمد یہ لکھی تو اس میں اسلام کی صداقت کو اتنے ز بر دست دلائل کے ساتھ ثابت ساتھ ثابت کیا کہ آپ سے قبل ۱۳۰۰ سال تک کسی عالم سے ایسا ایسا نہیں ہو سکا تھا اور وہ ایسے دلائل تھے کہ ان کے سامنے عیسائی اور ہندو ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ مگر مولویوں کی عقل ماری گئی اور بجائے خوش ہونے کے انہوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔ مرزا صاحب نے کہا اچھا اب میں تم سے اس کا بدلہ لیتا ہوں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان پر جانا سیدھی سادھی بات ہے لیکن اب میں اس کا انکار کرتا ہوں ۔ اگر تم میں ہمت ہے تو تم اس سیدھی سادھی بات کو ثابت کر کے دکھا دو ۔ پس یہ تو محض ان کی عقل کا امتحان لینے کے لئے مرزا صاحب نے کیا تھا ۔ اگر یہ سب مولوی آپ سے جا کر معافی مانگ لیں تو آپ ا تو آپ اسی قرآن سے حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دیں ۔ غرض جس طرح ان کے خیال میں حیات مسیح کا مسئلہ ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا اسی طرح مکہ والوں کے نزدیک کئی خداؤں کا ہونا ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ نے سب خداؤں کا قیمہ کر کے ایک بنالیا ہے ۔ مگر پھر دیکھو آپ نے ان سے یہ مسئلہ منوال یہ مسئلہ منوا لیا یا نہیں ۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ کئی خدا ہیں ان کا یہ حال ہو گیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو چند ایسے آدمی تھے جن کو معاف کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب نہ سمجھا ، اور ان کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ ان میں سے ایک ہندہ ابوس ابوسفیان کی بیوی بھی تھی ۔ یہ وہی عورت ہے جس نے حضرت حمزہ کا مثلہ کروایا تھا ۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ اسے اس ظالمانہ فعل اور خلاف انسانیت حرکت کی سزادی جائے ۔ اُس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ جب عورتیں بیعت کے لئے آئیں تو ہندہ بھی چادر اوڑھ کر ساتھ آگئی اور اُس نے بیعت کر لی ۔ جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! ہم اب بھی شرک کریں گی؟ آپ اکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کا مقابلہ کیا ۔ اگر ہمارے خدا سچے ہوتے تو آپ کیوں کامیاب ہوتے ۔ وہ بالکل بیکار ثابت ہوئے اور ہم ہار گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہندہ ہے؟ آپ اس کی آواز کو پہچانتے تھے، آخر رشتہ دار ہی تھی ۔ ہندہ نے کہا يَا رَسُولَ الله! اب میں مسلمان