انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 240

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۰ دیباچہ تفسیر القرآن میں آپ کو مشورہ دیں۔ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ کر آیا ہے تو ہم اُس سے ڈرتے نہیں ہم اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہر ایک کا جواب سن کر آپ یہی فرماتے چلے جاتے مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ داری تھی۔وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ اُن کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔يَارَسُوْلَ الله مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم باشندگانِ مدینہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ! اُس سردار نے جواب میں کہا يَا رَسُولَ الله ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب کر رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ کی تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اب اس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں اور شاید وہ معاہدہ ان حالات کے ماتحت قائم نہیں رہتا۔يَا رَسُولَ الله ! جس وقت وہ معاہدہ ہوا تھا اُس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب جبکہ ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے یا رَسُولَ الله ! اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے اِذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاإِنَّا هَهُنَاقَا عِدُونَ تو اور تیرا ربّ جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور يَا رَسُولَ اللہ ! دشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کیلئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گزرتا ہوا نہ جائے۔۲۴۷ يَا رَسُولَ الله ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے ، یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے آپ ہمیں حکم دیجئے کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو اور ہم بلا در لیغ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔۲۴۸ یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کوئی سابق نبی پیش نہیں کر سکتا۔موسیٰ کے