انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 230

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۳۰ دیباچہ تفسیر القرآن آپ نے مجھ سے سختی کے ساتھ بات نہیں کی، کبھی جھڑ کی نہیں دی، کبھی کسی ایسے کام کیلئے نہیں کہا جو میری طاقت سے باہر ہو۔۲۴۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام مدینہ کے ایام میں صرف آنس سے خدمت لینے کا موقع ملا اور انس کی شہادت اس بارہ میں آپ کے اخلاق پر نہایت تیز روشنی ڈالنے والی ہے۔مکہ سے اہل وعیال کو بلو انا مسجد نبوی کی بنیا درکھنا کچھ عرصہ کے بعد آپ کی نے اپنے آزاد کردہ غلام زیڈ کو مکہ میں بھجوایا کہ وہ آپ کے اہل وعیال کو لے آئے۔چونکہ مکہ والے اس اچانک ہجرت کی وجہ سے کچھ گھبرا گئے تھے اس لئے کچھ عرصہ تک مظالم کا سلسلہ بند رہا اور اسی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے خاندان کے مکہ چھوڑنے میں مزاحم نہیں ہوئے اور یہ لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔اس عرصہ میں جو زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدی تھی سب سے پہلے وہاں آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی ۲۴۲؎ اور اس کے بعد اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے مکان بنوائے جس پر کوئی سات مہینے کا عرصہ لگا۔مدینہ کے مشرک قبائل کا اسلام میں داخل ہونا مدینہ میں آپ کے داخلہ کے بعد چند ہی دن میں مدینہ کے مشرک قبائل میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے ، جو دل سے مسلمان نہ ہوئے تھے وہ ظاہری طور پر مسلمانوں میں شامل ہو گئے اور اس طرح پہلی دفعہ مسلمانوں میں منافقوں کی ایک جماعت قائم ہوئی جو بعد کے زمانہ میں کچھ تو سچے طور پر ایمان لے آئی اور کچھ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں کرتی رہی۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ظاہر میں بھی اسلام نہ لائے جی مگر یہ لوگ مدینہ میں اسلام کی شوکت کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ سے ہجرت کر کے مکہ چلے گئے۔اس طرح مدینہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس میں خالصتہ خدائے واحد کی عبادت قائم کی گئی۔یقین کی اُس وقت دنیا کے پردہ پر اس شہر کے سوا اور کوئی شہر یا گاؤں خالصتہ خدائے واحد کی عبادت کرنے کی والا نہیں تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ کتنی بڑی خوشی اور اُن کے ساتھیوں کی نگاہوں میں