انوارالعلوم (جلد 20) — Page 228
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۲۸ دیباچہ تفسیر القرآن تھی۔مگر چودھویں رات کا چاند تو مشرق سے چڑھا کرتا ہے۔پس مدینہ کے لوگوں کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اصل چاند تو روحانی چاند ہے۔ہم اس وقت تک اندھیرے میں تھے اب ہمارے لئے چاند چڑھا ہے اور چاند بھی اُس جہت سے چڑھا ہے جدھر سے وہ چڑھا نہیں کرتا۔یہ پیر کا دن تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور پیر ہی کے دن آپ غارثور سے نکلے تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ پیر ہی کے دن مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اُس کے گھر میں ٹھہر ہیں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اُس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے۔يَا رَسُولَ اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں يَارَسُولَ الله! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں آپ ہمارے ہی پاس ٹھہر ہیں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اُونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تا کہ آپ کو اپنے گھر میں اُتروا لیں۔مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہوگی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہو گا۔آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جا کر اونٹنی ٹھہر گئی۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔۱۳۸ پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے؟ زمین کچھ قیموں کی کی تھی اُن کا ولی آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔۲۳۹ اس کے بعد آپ نے فرمایا حضرت ابوایوب انصاری کے مکان پر قیام سب سے قریب گھر کس کا 3 ہے؟ ابوایوب انصاری آگے بڑھے اور کہا يَا رَسُولَ اللہ! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا گھر جاؤ اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔ابوایوب کا مکان دومنزلہ تھا اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی