انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 210

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۰ دیباچہ تفسیر القرآن تک تکالیف کا سوال ہے آپ اُن کو ضروری سمجھتے تھے بلکہ آپ کے لئے سب سے زیادہ تکلیف کا دن تو وہ ہوتا تھا جب کوئی شخص آپ کو تکلیف نہیں دیتا تھا۔لکھا ہے کہ ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گلیوں میں تبلیغ کے لئے نکلے مگر اُس دن کسی منصوبہ کے تحت کسی شخص نے آپ سے کلام نہ کیا اور نہ آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف دی نہ کسی غلام نے نہ کسی آزاد نے۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدمہ اور غم سے خاموش لیٹ گئے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا جاؤ اور اپنی قوم کو پھر اور پھر اور پھر ہوشیار کرو اور ان کی عدم توجہی کی پرواہ نہ کرو۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات گراں نہ گزرتی تھی کہ لوگ آپ کو دکھ دیتے تھے لیکن خدا کا نبی جو دنیا کو ہدایت دینے کے لئے مبعوث ہوا تھا وہ اس بات کو کب برداشت کر سکتا تھا کہ لوگ اُس سے بات ہی نہ کریں اور اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ایسی بیکار زندگی اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔پس آپ نے پختہ فیصلہ کر لیا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور طائف کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے اور خدا تعالیٰ کے نبیوں کے لیے یہی مقدر ہوتا ہے کہ وہ ادھر سے اُدھر مختلف قوموں کو مخاطب کرتے پھریں۔حضرت موسی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، کبھی وہ آل فرعون سے مخاطب ہوا تو کبھی آل اسحاق سے اور کبھی مدین کے لوگوں سے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی تبلیغ کے شوق میں کبھی جلیل کے لوگوں، کبھی بردن پار کے لوگوں، کبھی یروشلم کے لوگوں ، اور کبھی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کرنا پڑا۔جب مکہ کے لوگوں نے باتیں سننے سے ہی انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ مارو اور پیٹو مگر بات بالکل نہ سنو ، تو آپ نے طائف کی طرف رُخ کیا۔طائف مکہ سے کوئی ساٹھ میل کے قریب جنوب مشرق کی طرف ایک شہر ہے جو اپنے پھلوں اور اپنی زراعت کی وجہ کی سے مشہور ہے۔یہ شہر بت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کے سوالات نامی ایک مشہور بت طائف کی اہمیت کا موجب تھا جس کی زیارت کیلئے عرب کے لوگ دُور دُور سے آتے تھے۔طائف کے لوگوں کی مکہ سے بہت رشتہ داریاں بھی تھیں اور طائف اور مکہ کے درمیان کی سرسبز مقامات میں مکہ والوں کی جائدادیں بھی تھیں۔جب آپ طائف پہنچے تو وہاں کے رؤساء آپ سے ملنے کے لئے آنے شروع ہوئے لیکن کوئی شخص حق کو