انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 209

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۰۹ دیبا چه تفسیر القرآن بعد ابو طالب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد تبلیغ محمد سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں رکاوٹیں اور آنحضرت ﷺ کا سفر طائف اب ابو طالب کے رض - مصالحانہ اثر سے محروم ہو گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کی ساتھی حضرت خدیجہ بھی آپ سے جدا ہو ہو گئیں ۔ اِن دونوں دونوں کی وفات سے طبعی طور طور پر اُن لوگوں کی ہمدردیاں بھی آپ سے اور آپ کے صحابہؓ سے کم ہو گئیں جو ان کے تعلقات کی وجہ سے ظالموں کو ظلم سے روکتے رہتے تھے ۔ ابو طالب کی وفات کے تازہ صدمہ کی وجہ سے اور ابو طالب کی وصیت کی وجہ سے چند دن آپ کے شدید دشمن اور ابو طالب کے چھوٹے بھائی ابولہب نے آپ کا ساتھ دیا۔ لیکن جب مکہ والوں نے اس کے جذبات کو یہ کہہ کر اُبھارا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو تمام اُن لوگوں کو جو توحید الہی کے قائل نہیں مجرم اور قابل سزا سمجھتا ہے تو اپنے آباء کی غیرت کے جوش میں ابولہب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی مخالفت کرے گا ۔ محصوری کی زندگی کی وجہ سے چونکہ تین سال تک لوگ اپنے رشتہ داروں سے جدار ہے تھے اس لئے تعلقات میں ایک سردی پیدا ہو گئی تھی ۔ مکہ والے مسلمانوں سے قطع کلامی کے عادی ہو چکے تھے اس لئے تبلیغ کا میدان محدود ہو گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مکہ کی بجائے طائف کے لوگوں کو جا کر اسلام کی دعوت دیں ۔ آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مکہ والوں کی مخالفت نے اس ارادہ کو اور بھی مضبوط کر دیا۔ اوّل تو مکہ والے بات سنتے ہی نہیں تھے دوسرے اب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گلیوں میں چلنے ہی نہ دیتے ۔ جب آپ باہر نکلتے آپ کے سر پر مٹی پھینکی جاتی تا کہ آپ لوگوں سے مل ہی نہ سکیں ۔ ایک دفعہ اسی حالت میں واپس لوٹے تو آپ کی ایک بیٹی آپ کے سر پر مٹی ہٹاتے ہوئے رونے لگی ۔ آپ نے فرمایا او میری بچی! رونہیں کیونکہ یقیناً خدا تمہارے باپ کے ساتھ ہے ۔ ۲۱۴ آپ تکالیف سے گھبراتے نہ تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ لوگ بات سننے کو تیار نہ تھے۔ جہاں