انوارالعلوم (جلد 20) — Page 208
انوار العلوم جلد ۲۰ مسلمانوں سے مقاطعہ ۲۰۸ دیباچہ تفسیر القرآن غرض ظلم اب حد سے باہر ہوتے جارہے تھے۔کچھ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور جو باقی تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلموں کا شکار ہونے لگے تھے مگر ظالموں کے دل ابھی ٹھنڈے نہ ہوئے تھے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے گزشتہ ظلموں سے مسلمانوں کے دل نہیں ٹوٹے۔ان کے ایمانوں میں تزلزل واقعہ نہیں ہوا بلکہ وہ خدائے واحد کی پرستش میں اور بھی بڑھ گئے اور بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بتوں سے ان کی نفرت ترقی ہی کرتی چلی جاتی ہے تو انہوں نے پھر ایک مجلس شوری قائم کی اور فیصلہ کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ کلی طور پر مقاطعہ کر دیا جائے۔کوئی شخص سو دا اُن کے پاس فروخت نہ کرے۔کوئی شخص ان کے ساتھ لین دین نہ کرے۔اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند متبعین اور ان کے بیوی بچوں سمیت اور اپنے چند ایسے رشتہ داروں کے ساتھ جو با وجود اسلام نہ لانے کے آپ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ایک الگ مقام میں ج جو ابوطالب کی ملکیت تھا پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ان لوگوں کے پاس نہ روپیہ تھا نہ سامان نہ ذخائر جن کی مدد سے وہ جیتے۔وہ اس تنگی کے زمانہ میں جن حالات میں سے گزرے ہوں گے ان کا اندازہ لگا نا دوسرے انسان کے لئے ممکن نہیں۔قریباً تین سال تک یہ حالات اسی طرح قائم رہے اور مکہ کے مقاطعہ کے فیصلہ میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی۔قریباً تین سال کے بعد مکہ کے پانچ شریف آدمیوں کے دل میں اس ظلم کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی۔وہ شعب ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور محصورین کو آواز دے کر کہا کہ وہ باہر نکلیں اور کہ وہ اس مقاطعہ کے معاہدہ کو توڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ابو طالب جو اس لمبے محاصرہ اور فاقوں کی وجہ سے کمزور ہو رہے تھے باہر آئے اور اپنی قوم کو مخاطب کر کے اُنہیں ملامت کی کہ ان کا یہ لمبا ظلم کس طرح جائز کی ہو سکتا ہے۔ان پانچ شریف انسانوں کی بغاوت فوراً بجلی کی طرح شہر میں پھیل گئی۔فطرت انسانی نے پھر سر اُٹھانا شروع کیا۔نیکی کی روح نے پھر ایک دفعہ سانس لیا اور مکہ کے لوگ اس شیطانی معاہدہ کو توڑنے پر مجبور ہوئے۔۲۱۳ معاہدہ تو ختم ہو گیا مگر تین سالہ فاقوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا شعار بیوی حضرت خدیجہ اس مقاطعہ کے دنوں کی تکلیفوں کے نتیجہ میں فوت ہو گئیں اور اس کے ایک مہینہ