انوارالعلوم (جلد 20) — Page 10
انوار العلوم جلد ۲۰ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک ہو معدہ خراب ہو جائے تب تو ہو کہ ایک آدھ دن کا روزہ رکھ لیا مگر متواتر ایک مہینہ روزہ رکھتے جانا تج کونسی عقل کی بات ہے۔پھر یہ کام کا زمانہ ہے ، رات اور دن کام کرنا ہوتا ہے اور دن میں کئی شفٹیں ہوتی ہیں اور روزانہ پانچ پانچ نمازوں کا پڑھنا اور پھر امام کے انتظار میں بیٹھے رہنا کونسی عقل کی بات ہے۔بھلا اس طرح انڈسٹری کیسے چل سکتی ہے۔یہ زمانہ تجارت کا ہے۔بینکنگ کے علاوہ دوسرے ملکوں سے ہم ضروری اشیاء کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔تم کہتے ہو بینکنگ اُڑا دو۔اس طرح تو ملک تباہ ہو جائے گا۔پھر تجارت کیسے کی جائے گی۔اسی طرح تم کہتے ہے انشورنس کو اُڑا دو۔انسان جتنا کماتا ہے، کھا جاتا ہے۔اگر اس کو اڑا دیا جائے تو مرنے والا تو مر گیا، یتیم بچوں کے لئے کچھ نہیں رہے گا اور اس طرح قوم پر ایک غیر معمولی بار پڑ جائے گا پھر عورتوں کی مدد کے بغیر مرد کام نہیں کر سکتا۔عورتیں مردوں کے دوش بدوش چلتی ہیں اور وہ ان کی عزت کا خیال کر کے ان کے اکرام کے طور پر بڑی سے بڑی قربانی کر لیتا ہے۔اگر عورتوں کی کو پردہ میں بٹھا دیا جائے تو پھر دنیا کا کام کیسے چلے گا۔یہ صفائی کا زمانہ ہے صحت ٹھیک ہونی چاہئے۔تم کہتے ہو ڈاڑھیاں رکھو اس سے تو جوئیں پڑ جائیں گی اور میل بڑھ جائے گی ، یہ بھی کوئی انسانیت ہے۔جرمن والے تو ٹنڈ ہی کروا لیتے ہیں۔خوش قسمتی سے ہم پر انگریز حاکم کی تھے جس کے نتیجہ میں سروں کے بال محفوظ رہ گئے بلکہ بودے نکل آئے۔اگر جرمن حاکم ہوتے تو کی وہ سر کے بال بھی اُڑا دیتے۔غرض تمام اسلامی احکام جو اسلام پیش کرتا ہے۔ان پر وہ اعتراض کرتے ہیں مثلاً ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ بھی کوئی انصاف کی بات ہے، مرد کو اگر زیادہ شادیاں کرنے کا حق ہے تو عورت کو کیوں نہیں۔اسی طرح پہلے تو طلاق بھی بُری سمجھی جاتی تھی تی لیکن آجکل اسے بُر انہیں سمجھا جاتا بلکہ ٹائمنز آف لندن میں ایک دفعہ میں نے ایک واقعہ پڑھاتی کہ امریکہ میں ایک عورت تھی جب وہ فوت ہوئی تو وہ ۱۷ خاوند کر چکی تھی۔جن میں سے بارہ خاوند اس کے جنازے پر موجود تھے۔پھر طلاق کی وجوہات بھی وہاں بہت معمولی ہوتی ہیں۔ایک عورت نے لکھا کہ میں نے اپنے خاوند سے اس لئے طلاق لی کہ میں نے ایک ناول لکھا اور خاوند سے کہا کہ اس کو شائع کرنے کی اجازت دو۔اس نے کہا میں اس کی اجازت نہیں دے