انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 207

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۰۷ دیبا چه تفسیر القرآن وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِي - إِنَّ السَّاعَةَ أَتِيَةً أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بما تشفى الا یقیناً میں ہی اللہ ہوں اور کوئی معبود نہیں صرف میں ہی معبود ہوں ۔ پس اے مخاطب ! میری عبادت کر اور نماز پڑھ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری عبادت کو قائم کر ۔ رسمی عبادت نہیں بلکہ میری بزرگی کو دنیا میں قائم کرنے والی عبادت ۔ یا د رکھ کہ اس کلام کو قائم کرنے والی گھڑی آ رہی ہے میں اس ۔ اس کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہوں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک جان کو جیسے جیسے وہ کام کرتی ہے اس کے مطابق بدلہ مل جائے گا ۔ حضرت عمر جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکل گیا یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے ۔ رض - خباب نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ اس ۔ وہ اس جگہ سے جہاں چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور کہا یہ ** رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا کا نتیجہ ہے۔ مجھے خدا کی قسم ! میں نے کل ہی آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الہی ! عمر بن الخطاب یا عمر و بن ہشام میں سے کسی ایک کو اسلام کی طرف ضرور ہدایت بخش ۔ عمرؓ کھڑے ہو گئے اور کہا مجھے بتاؤ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ جب آپ کو بتایا گیا کہ آپ دارارقم میں دار ارقم میں رہتے ہیں تو آپ اُسی طرح ننگی تلوار لیے ہوئے وہاں پہنچے اور دروازہ پر دستک دی ۔ صحابہ صحابہؓ نے دروازہ کی دراڑوں میں سے اسے دیکھا تو انہیں عمر ننگی تلوار لئے کھڑے نظر آئے ۔ وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو دروازہ کھول دیں تو عمر اندر آ کر کوئی فساد کریں ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کیا ؟ دروازہ کھول دو۔ عمر اسی طرح تلوار لیے اندر داخل ہوئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور فرمایا عمر ! کس ارادہ سے آئے ہو ؟ عمر نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بلند آواز سے اللهُ اَكْبَرُ کہا یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ کے سب ساتھیوں نے بھی یہی الفاظ زور سے دُہرائے یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں ۲۱۲ اور تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر مکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور عمر سے بھی وہی سختی کا برتاؤ ہونا شروع ہو گیا جو پہلے دوسرے صحابہ سے ہوتا تھا ۔ مگر وہی عمر جو پہلے مارنے اور قتل کرنے میں مزہ اُٹھایا کرتے تھے اب مار کھانے اور پیٹے جانے میں لذت حاصل کرنے لگے ۔ چنانچہ خود عمر کا بیان ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں ماریں ہی کھاتا رہتا تھا۔ یہ