انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 199

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۹ دیبا چه تفسیر القرآن ایک نہایت دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لڑکائے ہوئے نہایت ہی تبختر ۲۰۵ کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بے حد متاثر تھا ۔ وہ حمزہ کو اس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا۔ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو ۔ مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابو جہل نے تمہارے بھتیجے سے کیا کیا ؟ حمزہ نے پوچھا کیا کیا ؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزہ کے سامنے بیان کیا۔ حمزہ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے ۔ اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقیناً اُن کے دل پر ان کا اثر ہو چکا تھا مگر اپنی آزاد زندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اس واقعہ کو سن کر اُن کی رگِ حمیت جوش میں آگئی ۔ آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دُور ہو گیا اور انہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی جا رہی ہے۔ اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤساء کے مشورے کا مخصوص مقام تھا۔ اپنی کمان کندھے سے اُتاری اور زور سے ابوجہل کو ماری اور کہا سنو ! میں بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں ۔ تم نے صبح اُسے بلا وجہ گالیاں دیں اس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا ۔ اگر بہادر ہو تو آب میری مار کا جواب دو ۔ یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل بھی گھبرا گیا ۔ اُس کے ساتھی حمزہ سے لڑنے کو اُٹھے لیکن حمزہ کی بہادری کا خیال کر کے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کر کے ابو جہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہو گئی تو اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اِس لئے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اس کے بھتیجے کو بہت بُری طرح گالیاں دی تھیں ۔ ۲۰۶ جب مخالفت تیز ہو گئی اور اِدھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیغام اسلام صحابہ نے اصرار سے مکہ والوں و خداتعالی کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے ، اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ۔ جس قدر نبی گزرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا