انوارالعلوم (جلد 20) — Page 8
انوار العلوم جلد ۲۰ Λ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہ معمولی چیز نہیں۔ایک انسان کے لئے ایک انسان کی اصلاح بھی ناممکن ہے مگر ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔اسلام کے ماننے والوں میں سے کتنے ہیں جو خوشی سے ان احکام کو مانتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔پھر جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو واقعہ میں عمل کرنے کے لئے تیار ہیں اور پھر جو عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو ان پر عمل کر کے صحیح طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ اسلام کے معنی ہی نہیں سمجھتے۔ہر آدمی ایسی چیزوں اور عقائد کو جو رسم و رواج میں داخل ہیں الگ کر لیتا ہے اور کہتا ہے ان کو الگ کر لو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔کچھ عورتیں پردہ کی قائل نہیں ہیں وہ اس کو الگ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں بھلا اللہ تعالیٰ کو چھوٹے چھوٹے امور میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔پردہ کو الگ کر دو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ہمارے نوجوان جن کے لئے ڈاڑھی رکھنا مشکل ہے وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی ، باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔سُود لینے والا کہہ دیتا ہے کہ بینکنگ تو نہایت ضروری چیز ہے اس لئے سُود کو چھوڑو، باقی جو کچھ ہے اسلام ہے۔غرض جس حکم کو وہ نہیں مانتا اس کے نزدیک وہ اسلام نہیں، باقی امور اسلام میں داخل ہیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔سو د بھی اسلام میں داخل نہیں ، نمازیں بھی اسلام میں داخل نہیں ، ڈاڑھیاں بھی اسلام میں داخل نہیں تو پھر کچھ بھی اسلام میں داخل نہیں۔مثل مشہور ہے کہ کوئی بُز دل آدمی تھا اسے وہم ہو گیا تھا کہ وہ بہت بہادر ہے۔وہ گود نے والے کے پاس گیا۔پرانے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ پہلوان اور بہادر لوگ اپنے بازو پر اپنے کیریکٹر اور اخلاق کے مطابق نشان کھدوا لیتے تھے۔یہ بھی گودنے والے کے پاس گیا۔گود نے والے نے پوچھا تم کیا گدوانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا میں شیر گدوانا چاہتا ہوں۔جب وہ شیر گود نے لگا تو اس نے سوئی چبھوئی۔سوئی چبھونے سے درد تو ہونا ہی تھا وہ دلیر تو تھا نہیں اس نے کہا یہ کیا کرنے لگے ہو؟ گودنے والے نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔اس نے پوچھا شیر کا کونسا کی حصہ گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا دُم گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا شیر کی دُم اگر کٹ جائے