انوارالعلوم (جلد 20) — Page 185
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۵ دیا چه تفسیر القرآن عرب لوگ دوسری اقوام سے بہت پیچھے تھے۔مگر بعض شخصی اور بہادرانہ اخلاق اُن میں ضرور پائے جاتے تھے اور اس حد تک پائے جاتے تھے کہ شاید اُس زمانہ کی دوسری قوموں میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اس ماحول میں محمدرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد جن کا نام عبداللہ تھا فوت ہو گئے تھے اور آپ کو اور آپ کی والدہ حضرت آمنہ کو اُن کے دادا عبدالمطلب نے اپنی کفایت میں لے لیا تھا۔عرب کے رواج کے مطابق آپ دودھ پلانے کے لئے طائف کے پاس رہنے والی ایک عورت کے سپرد کئے گئے۔عرب لوگ اپنے بچوں کو دیہاتی عورتوں کے سپر د کر دیا کرتے تھے تا اُن کی زبان صاف ہو جائے اور اُن کی صحت درست ہو۔آپ کی عمر کے چھٹے سال میں آپ کی والدہ بھی مدینہ سے آتے ہوئے جہاں وہ اپنے نھیال سے ملنے گئی تھیں مدینہ اور مکہ کے درمیان فوت ہو گئیں اور وہیں دفن ہوئیں اور آپ کو ایک خادمہ اپنے ساتھ مکہ لائی اور دادا کے سپر د کر دیا۔آپ آٹھویں سال میں تھے کہ آپ کے دادا جو آپ کے نگران تھے وہ بھی فوت ہو گئے اور آپ کے چچا ابو طالب اپنے والد کی وصیت کے مطابق آپ کے نگران ہوئے۔عرب سے باہر آپ کو دو تین دفعہ جانے کا موقع ملا۔جن میں سے ایک سفر آپ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چا ابوطالب کے ساتھ کیا جو کہ تجارت کے لئے شام کی طرف گئے تھے۔یہ سفر آپ کا غالباً شام کے جنوب مشرقی تجارتی شہروں تک ہی محدود تھا کیونکہ اس سفر میں بیت المقدس وغیرہ جگہوں میں سے کسی کا ذکر نہیں آتا۔اس کے بعد آپ جوانی تک مکہ میں ہی مقیم رہے۔مجلس حلف الفضول میں آپ کی شمولیت آپ کی طبیعت بچپن سے ہی سوچنے اور فکر کرنے کی طرف مائل تھی اور لوگوں کی لڑائیوں جھگڑوں میں آپ دخل نہیں دیا کرتے تھے بلکہ لڑائیوں اور فسادوں کے دُور کرانے میں حصہ لیتے تھے چنانچہ مکہ اور اس کے گردونواح کے قبائل کی لڑائیوں سے تنگ آ کر جب مکہ کے کچھ نوجوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا