انوارالعلوم (جلد 20) — Page 178
انوار العلوم جلد ۲۰ KA دیباچہ تفسیر القرآن سکتا جو ایک انسان کو سوز و گداز سے عبادت کرتے ہوئے دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔اس میں کوئی چی شبہ نہیں کہ خالی نمونہ بھی ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ جب تک فکر پاکیزہ نہ ہو جذ بات رسم و رواج کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور رسم و رواج عقل اور دانائی کو قتل کر دینے والی چیزیں ہیں۔پس ایک ہی وقت میں مدلل تعلیم کی بھی ضرورت ہے اور پاک نمونہ کی بھی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتابیں ہمیشہ نبیوں پر نازل ہوتی رہی ہیں۔خالی کتاب کبھی آسمان سے نہیں پھینکی گئی۔کتاب انسان کے دماغ کو نور بخشتی ہے اور نمونہ اُس کتاب کے مضمون کو انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے اور اُس کے جذبات کا حصہ بنا دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن میدانوں میں خدا تعالیٰ کے انبیاء کامیاب ہوئے ہیں فلاسفران میدانوں میں ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں کیونکہ فلاسفر اپنے فلسفوں سے ہمیشہ لوگوں کے دماغوں کی اصلاح کی فکر کرتے ہیں مگر اپنے اچھے نمونہ سے اُن کے دلوں کی اصلاح نہیں کرتے۔جبکہ انبیاء آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے لوگوں کے دماغوں کو بھی نور بخشتے ہیں اور اپنے نمونہ کے ذریعہ سے اُن کے دلوں کو بھی پاک کرتے ہیں اور اُن کی ذات میں جو خدا تعالیٰ کے معجزات اور نشانات ظاہر ہوتے ہیں وہ لوگوں کے ایمان اور یقین کو بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں۔اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں یہ ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ حالات بھی اس موقع پر بیان کر دیئے جائیں۔صلى الله آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان اور۔اسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات جتنے ظاہر ہیں اور کسی نبی کی زندگی کے حالات اتنے ظاہر نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تفصیل کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جتنے اعتراض ہوئے ہیں اتنے اعتراض اور کسی نبی کے وجود پر نہیں ہوئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان اعتراضوں کے حل ہو جانے کے بعد جس طرح شرح صدر اور جس اخلاص سے ایک انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کر سکتا ہے اور کسی انسان کی ذات سے اتنی محبت ہر گز نہیں کر سکتا۔کیونکہ جن کی زندگیاں پوشیدہ ہوتی ہیں اُن