انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 177

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۷۷ دیباچهتفسیر القرآن محسوس کرنے لگیں۔جذبات کو بعض لوگ بُرا کہتے ہیں لیکن جذبات بُرے ہی نہیں اچھے بھی کی ہوتے ہیں۔جذبہ کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ ارادہ اور عمل کے درمیان جو فکر کی لمبی دیوار کھڑی ہے ہوتی ہے وہ چھوٹی کر دی جائے یا بالکل اُڑا دی جائے تا کہ انسانی اعمال محدود ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ جذبات کی وجہ سے وہ سینکڑوں گنے زیادہ ترقی کر جائیں۔جو شخص خالی فکر سے کام لیتا ہے وہ بہت سا وقت سوچنے اور غور کرنے میں گزار دیتا ہے۔لیکن جو شخص ایک دفعہ سوچ کر اور غور کر کی کے ایک سچائی کو معلوم کر لیتا ہے اور ایک نیکی کو پالیتا ہے پھر وہ اُس سچائی اور نیکی کو اپنے دل کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور اسے اپنے جذبات کا حصہ بنا دیتا ہے تو وہ اُس نیکی اور سچائی پر عمل کرنے میں اتنا تیز اور پھر تلا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو صرف فکر سے کام لینے کا عادی ہے اُس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔فکر سے کام لینے والا جتنی دیر میں ایک کام کرے گا جذبات سے کام لینے والا اتنی دیر میں بیسیوں کام کر جائے گا اور ہم اس جذبات سے کام لینے والے شخص کو وحشی نہیں کی کہہ سکتے کیونکہ یہ جذبات کا غلام نہیں ہے بلکہ پہلے اُس نے فکر اور غور سے سچائیوں اور نیکیوں کو دریافت کیا اس کے بعد اُس نے اُن سچائیوں اور نیکیوں کو اپنے جذبات کا حصہ بنالیا۔پس ایسے شخص کا جذباتی عمل غیر ارادی نہیں ہوتا بلکہ ارادہ کے تابع ہوتا ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ یہ اُس کام کو جو ایک دفعہ فکر سے لے چکا ہے بار بار دہرانا نہیں چاہتا اور ایک ایسا کام جو پہلے کیا جا چکا ہو اُس کو بغیر ضرورت دُہرانا عظمندی تو نہیں بیوقوفی کی بات ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک سچائیاں اور نیکیاں انسان کے جذبات کا جزو نہ بن جائیں۔جب تک انسان صرف فکر کی اتباع کرے گاوہ دبـدهـا ۱۸۳ اور شک اور دیر کا شکار رہے گا۔جب وہ سچائیوں اور نیکیوں کے اصول کو فکر اور غور سے معلوم کر کے اپنے جذبات کا حصہ بنالے گا تو دُبُدھا اور شک اور دیر سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔وہ سچائیوں پر عمل کرے گا اور نیکیاں ظاہر کرے گا مگر بغیر تر ڈو کے، بغیر شبہ کے، بغیر دُبُدھا کے۔اور یہ چیز جیسا کہ میں نے بتایا ہے بغیر اچھے نمونہ کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ہم عقلی دلیل سے اپنے دماغ کو تسلی دیتے ہیں۔عقلی دلیل محبت کے جذبات کو نہیں اُبھارا کرتی۔محبت کے جذبات کو قربانی اور ایثار کا نمونہ ہی اُبھارا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے الفاظ کتنے ہی شاندار ہوں اُن سے وہ سوز و گداز پیدا نہیں ہو