انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 176

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن لیکن عام طور پر دل کی صفائی کے مطابق انسان کے اعمال صادر ہوتے ہیں اور دل کی صفائی کاج بہترین ذریعہ اچھا نمونہ ہوتا ہے۔قانون انسان کے دماغ پر اثر ڈالتا ہے لیکن اچھا نمونہ انسان کے دل پر اثر ڈالتا ہے۔قانون کی حکومت فکر پر ہوتی ہے لیکن اچھے نمونہ کی حکومت جذبات پر ہوتی ہے۔ہم صرف فکر کی اصلاح سے انسان کی روحانی اور جسمانی اصلاح نہیں کر سکتے۔فکر کا نتیجہ غیر متواتر اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے لیکن جذبات کا نتیجہ متواتر اور مسلسل اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ایک عام خیر خواہ انسان جس رنگ میں اپنے گردو پیش کے لوگوں کی خیر خواہی کرتا ہے اُس کی خیر خواہی کا نمونہ اُس خیر خواہی کے نمونہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ماں اپنے بچہ کے متعلق دکھاتی ہے۔اس لئے کہ جس کا دماغ اخلاقی تعلیم سے متاثر ہوا ہے وہ اُس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتا جس کے جذبات اخلاقی تعلیم سے متاثر ہوں۔ماں کی محبت اپنے بچہ سے اُس کے جذبات کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایک فلاسفر کی محبت اپنے ہمسایوں سے دلائل عقلیہ کی بناء پر ہوتی ہے۔انبیاء کے اعمال فکری جذباتی جو اعمال دلائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ متواتر اور مسلسل نہیں ہو سکتے ہوتے ہیں اور لوگوں کے لئے نمونہ کیونکہ بعض دفعہ انسان کی توجہ حقیقت کی طرف نہیں پھرتی۔بعض دفعہ اُس کے ارادہ اور عمل کے درمیان ایک لمبی سوچ اور فکر حائل ہو جاتی ہے مگر جو جذبات کے ماتحت لوگوں سے کوئی کام کرتا ہے اُس کے کام فوری ہوتے ہیں اور مسلسل ہوتے ہیں۔ماں کو اگر کوئی لاکھ دلیل دے کہ تو اپنے بچہ کے لئے قربانی نہ کر جو کر رہی ہے تو وہ کبھی اُس کی بات نہیں مانے گی اور بچے کی تکلیف کے متعلق وہ سوچنے نہیں بیٹھے گی۔وہ چی اندھا دھندا ور فوری طور پر اپنے بچہ کی خیر خواہی کے لئے وہ تدابیر اختیار کرنے کو آمادہ ہو جائے کی گی جو تدابیر اُس کے نزدیک اُس کے بچہ کے فائدہ کے لئے ضروری ہوں گی اور رات اور دن کی میں کوئی وقت بھی ایسا نہیں ہو گا جب اُس کا دماغ اپنے بچہ کی خیر خواہی سے خالی ہو۔پس حقیقی اصلاح جبھی ہو سکتی ہے کہ اخلاق فاضلہ بنی نوع انسان کے جذبات کا حصہ بنا دیئے جائیں۔وہ اخلاق کے مطالبات کو فکر کے بعد پورا نہ کریں بلکہ اخلاقی مطالبات کو اپنی ذات میں