انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 168

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۶۸ دیباچہ تفسیر القرآن بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا“۔ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الیاس سے مراد انا جیل کی تعلیم کے مطابق یوحنا تھے۔مسیح کے متعلق تو فیصلہ ہی ہے کہ عہد نامہ جدید والا نبی یسوع ابن مریم ہی مسیح کے نام سے خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ظاہر ہوا۔اب رہ گیا وہ نبی نہ یوحنا وہ نبی ہو سکتا ہے نہ مسیح وہ نبی ہوسکتا ہے۔کیونکہ وہ نبی ایک علیحدہ وجود ہے۔پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ نبی مسیح کے زمانہ تک نہیں آیا تھا۔پس معلوم ہوا کہ وہ موعود جسے بائبل وہ نبی“ کے نام سے یاد کرتی تھی انا جیل کی چی گواہی کے مطابق مسیح ناصری کے بعد نازل ہونے والا تھا اور مسیح ناصری کے بعد سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی شخص نہیں جس نے وہ نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور جس و پر وہ تمام علامتیں صادق آتی ہوں جو وہ نبی میں پائی جانے والی تھیں جیسا کہ او پر ثابت کیا جا چکا ہے۔( د ) اسی طرح لوقا میں لکھا ہے:۔اور دیکھو میں اپنے باپ کے اُس موعود کوتم پر بھیجتا ہوں لیکن جب تک عالم بالا کی قوت سے ملبس نہ ہوں پیرو فلم میں ظہر و ۵ علی اس پیشگوئی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اور موعود ظاہر ہونے والا تھا مگر وہ کون موعود ہے؟ سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آج تک کوئی شخص بھی تو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کا مدعی نہیں ہوا۔(ھ) یوحنا میں لکھا ہے:۔دو لیکن وہ تسلی دینے والا جو روح قدس ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھلا دے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں تمہیں یاد دلا دے گا“۔۶ کا یہ پیشگوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی پر صادق نہیں آتی۔بیشک اس میں یہ لکھا ہے کہ باپ میرے نام سے اُسے بھیجے گا۔لیکن نام سے بھیجنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ ی میری تصدیق کرے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تصدیق کی